جامعہ زرعیہ میں جرمنی کی کیسل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ کی کتاب ، پاکستان میں نخلیاتی زراعت ، کی تقریبِ رونمائی

ہفتہ 23 مئی 2026 17:24

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2026ء) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جرمنی کی کیسل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ کی لکھی ہوئی کتاب ’پاکستان میں نخلیاتی زراعت‘ کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ ہفتہ کو ترجمان یونیورسٹی کے مطابق یہ کتاب زرعی ثقافتی ورثے کی لوک کہانیوں، تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع پر مبنی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ نے یہ کتاب پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے نام منسوب کی اور تعاون پر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچرملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ نے کتاب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں پاکستان کے علاقوں کوہِ قراقرم کے پہاڑوں اور چولستان کے میدانی علاقوں میں پودوں کے حیاتیاتی تنوع اور زرعی زمین کے استعمال کے انتظام پر 15 سالہ مشترکہ زرعی تحقیق کے نتائج شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہی علاقوں کے نخلستانوں سے جمع کی گئی 169 لوک کہانیاں بھی شامل کی گئی ہیں جو انسان اور فطرت کے گہرے رشتے کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کتاب کا مقصد پاکستانی نخلستانوں میں پودوں کے حیاتیاتی تنوع اور زمین کے استعمال کے انتظام کا جائزہ ہے، جہاں سماجی اور ماحولیاتی ماحول میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ گلگت بلتستان میں گزشتہ دہائیوں کے دوران مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور عالمگیریت کو 1975 ء میں شاہراہِ قراقرم کی تعمیر سے فروغ ملا۔اس کے برعکس چولستان میں یہ تبدیلی زیادہ حالیہ ہے، جہاں 2020 ء کی دہائی کے وسط میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے گہری، سیراب زرعی کاشتکاری شروع کر کے 'سبز انقلاب' کا آغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے ساتھ گفتگو کے دوران ہم نے یہ مشن طے کیا تھا کہ پاکستان کے لوگوں،خواہ وہ تعلیمی ماحول سے وابستہ ہوں یا دیہی علاقوں کے لوگ ان کا معیار بلند کیا جائے اور اسی مقصد کے تحت اس کتاب کو لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔