سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ارکان کا شہر میں قلت آب کے خلاف سخت احتجاج

ایوان میں شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا ایم کیو ایم ارکان پانی پر سیاست نہ کریں حکومت فراہمی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کررہی ہے، وزیر قانون

منگل 26 مئی 2026 04:35

�راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مئی2026ء) سندھ اسمبلی میں پیر کو ایم کیو ایم کے ارکان نے شہر میں قلت آب کے خلاف سخت احتجاج کیا، ایوان میں شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا ، شور و غل کے دوران وقفہ سوالات میں ارکان کے جوابات بھی نہیں دیئے جاسکے۔وزیر قانون و پارلیمانی امور نے ایم کیو ایم کے ارکان سے کہا کہ وہ پانی پر سیاست نہ کریں حکومت فراہمی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کررہی ہے ۔

ایوان کی کارروائی کے دوران ارکان نے نے کراچی میں پانی کی قلت کے بارے میں اپنے توجہ دلا نوٹس بھی پیش کئے ۔سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

(جاری ہے)

کارروائی کے آغاز ہی میں ایم کیو ایم کے ارکان نے کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف ہنگامہ شروع کردیا۔انہوں نے اپنے احتجاج کے دوران کراچی کو پانی دو کے نعرے لگائے ۔

ڈپٹی اسپیکر نے ارکان سے کہا کہ وہ پہلے وقفہ سوالات مکمل ہونے دیں اس کے بعد اس معاملے کو سن لیں گے تاہم ایم کیو ایم کے ارکان کا اصرار تھا کہ یہ اہم شہری مسئلہ ہے پہلے اس پر بات کی جائے۔ ایوان میں سخت شور شرابے کے دوران محکمہ فشریز اور لائیو اسٹاک سے متعلق وقفہ سوالات شروع ہوا لیکن شور و غل کے باعث کوئی بات نہیں سنائی دے رہی تھی اور اسی ہنگامہ آرائی کے دوران وقفہ سوالات نمٹ گیا۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اگر ایوان میں میری آواز دبائی گئی تو پھر کوئی بھی بات نہیں کرسکے گا بہتر یہی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر یہاں مچھلی بازار بند کرائیں۔اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی ایم کیو ایم کے رویہ پر احتجاج شروع کردیا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومتی ارکان یہ بھول رہے ہیں کہ وہ حکومت میں ہیں۔

ہم لوگ اپنے دفاتر میں بیٹھتے ہیں تو لوگوں کا ایک ہجوم یہ شکایت لیکر آجاتا ہے کہ شہر میں پانی نہیں ہے ، گلشن اقبال اور اورنگی میں دو دن سے صورتحال بہت زیادہ تشویش ناک ہے ۔ کراچی کے شہری پیاسے ہیں اور پورا شہر کربلا کا منظر پیش کررہا ہے ۔وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ اپوزیشن کے دوست پانی پر سیاست نہ کریں، کراچی میں کے فور کا منصوبہ چل رہا ہے ۔

ایم کیو ایم والے وفاقی حکومت میں شامل ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ وفاقی حکومت سے کہیں کہ یہ منصوبہ جلد مکمل کرے۔وزیر قانون نے کہا کہ شہر میں پانی کی ترسیل جاری ہے ، حکومت نے حب کینال کی ایک اور اسکیم بنائی ہے کوشش ہے کہ اورنگی ٹان میں جلد پانی پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی کی چوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے فور منصوبے کے بغیر شہر کی ضروریات کے مطابق پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے ۔

جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے اپنے توجہ دلا نوٹس میں کہا کہ میرے حلقے میں چھتیس انچ قطر کی سیوریج لائن کی وجہ سے پوری آبادی تالاب بنی ہوئے ہے۔ لائین کا کام بہت سست روی سے جاری ہے اوپر سے عید قربان بھی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے سامنے بھی دو دو فٹ پانی کھڑا ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ اور سی ای او کے پاس ہم سے بات کرنے اور ملاقات کا وقت نہیں ہے۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے۔ منصوبے پرکام ہورہا ہے۔ جلد مکمل ہوجائے گا جس سے بہتری آجائے گی۔ایم کیو ایم کے نصیر احمد نے اپنے توجہ دلا نوٹس میں کہا کہ میرے حلقے منگھو پیر میں ایک سڑک بھی صحیح نہیں ہے لگتا ہے منگھو پیر حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ سڑکیں بنوا دیں، میں شکر گذار رہوں گا۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ منگھو پیر میں ایک روڈ نہیں تمام روڈ بنائیں گے۔

انکا پورا حلقہ بنادیں گے سر آنکھوں پر۔ ایم کیو ایم کے رکن شارق جمال نے اپنے توجہ نوٹس میں اپنے حلقے میں پانی اور سیوریج کے مسائل کی نشاندہی کی ۔انہوں نے کہا کہ دھابیجی اور ڈبلوٹی کی پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔ واٹر بورڈ نے نو کروڑ کی لاگت سے ایکسپریس لائین بچھوائی تھی لیکن پانی بالکل نہیں آدہا ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ وہان کچھ کام مکمل ہوا ہے۔

کورنگی اور شاہ فیصل ترقیاتی کاموں کی 9 اسکیمز چل رہی ہیں میں۔ میں ان سے شیئر بھی کردیتا ہوں۔ سندھ حکومت اپنا کام رہی ہے۔ بہت سارے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں باقی جلد مکمل ہوں گے۔ کراچی ہم سب کا ہے۔پی ٹی آئی کے سجاد سومرو نے اپنے توجہ دلا نٹس میں کہا کہ میرے حلقے میں نکاسی و آب کا مسئلہ ہے۔ وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ لیاری ویسے ہی ہمارا ہے۔

حکومت نے لیاری کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئی بڑا پیکج دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹان روڈ بناتا تھا پھر گیس والے کھود دیتے تھے۔ ناصر شاہ نے کہا کہ سجاد بھائی آپکو مبارک ہو پانچ ارب روپے کی اسکیمز لیاری میں لگا رہے ہیں۔ پچیس ارب کا پورا پیکیج ہے۔ میں آپکے ساتھ لیاری کا دورہ بھی کروں گا۔پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے اپنے ایک نقطہ اعتراض پر کہا کہ کراچی میں پانی کی طلب زیادہ ہے فراہمی کم ہے۔

ایوان میںپانی کے مسائل پر بات کرنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ کراچی میں پانی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی سنجیدہ نہیں ہے۔ حب کینال پر بھی غیر معیاری کام کیا ہے۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کے عامر صدیقی کی قراردادجوجیکب آباد میں لوگوں کے گھر جلانے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو سزا دینے سے متعلق تھی منظور کرلی گئی ۔ وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ یہ اہم عومی مسئلہ ہے ۔

ہمیں اس قرار داد پر کوئی اعتراض نہیں یہ بالکل منظور ہونی چاہے ۔ہم نے اپنی ایم پی اے صائمہ آغا کو وہاں بھیجا تھا۔ جن کے گھر جلے ہیں ان کی مدد کریں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ گاں والوں نے اپنے گھروں کی چھتیں خود توڑی ہیں۔ ڈی سی سے رپورٹ منگوائیں گے۔ یقینی طور پر انکی مدد کریں گے۔ بعد ازاں ایوان نے قرارداد کی منظوری دیدی۔ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کی خاتون رکن قراالعین نے اپنی ایک قرارداد جوکراچی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم گرفتاری اوربچوں کے ذہنی اور جسمانی علاج کے لیے ان کی مدد سے متعلق تھی وزیر داخلہ کی وضاحت کے بعد واپس لے لی ۔

ضیاالنجار نے کہا کہ یہ بہت اہم قرارداد ہے۔ اس معاملے پر ایک بریفنگ رکھتے ہیں یا محکمہ داخلہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اس معاملے کو اٹھا لیتے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں میں اسپیشل انوائٹی کے طور پر اپنی بہن کو بلا لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر کافی لوگوں کو پکڑا گیاہے اور اعلی سطحی تفتیش ہورہی ہے۔ صوبائی وزیر کی اس وضاحت کے بعد قرا العین نے اپنی قرارداد واپس لے لی۔سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف ری پروڈیکٹو ہیلتھ کراچی کے قیام کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔قبل ازیںبل کے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ندا کھوڑو نے پیش کی۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا گیا۔