پاکستان کے مسائل سیاسی ہیں، انتخابی عمل میں مداخلت سے جمہوری ادارے کمزور ہوئی: محمود خان اچکزئی

چمن میں درج مقدمے کے خلاف محمود خان اچکزئی کی بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر، ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کی استدعا

بدھ 3 جون 2026 21:50

ٓکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 جون2026ء) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین واپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہاکہ پاکستان کو درپیش مسائل بنیادی نوعیت کے سیاسی ہیں اور ملک میں حقیقی جمہوری معاشرے کی تشکیل ناگزیر ہے انتخابی عمل میں مداخلت کے باعث جمہوری ادارے کمزور ہوئے ہیں آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کی بات کرنے والوںکو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس لئے ملک میں حقیقی عوامی نمائندگی پر نظام کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ دنوں چمن میں اپنے خلاف درج مقدمے کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں وکلاء سے گفتگو کے دوران کیا اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماء ، لائرز فورم کے اراکین ، سیاسی کارکن، قبائلی عمائدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔

(جاری ہے)

محمود خان اچکزئی کی جانب سے گزشتہ دنوں چمن میں ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمے کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر آئین اور قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اسے کالعدم قرار دے کر خارج کیا جائے۔ اس موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بلوچستان ہائی کورٹ بار روم میں وکلا سے خطاب اور میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش بیشتر مسائل کی جڑ سیاسی بحران ہے۔

اس لئے سیاسی بحران کے حل کو یقینی بنانا ملک اور قوم کے لئے ناگزیر ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین طویل جدوجہد اور سیاسی اتفاقِ رائے کے نتیجے میں وجود میں آیاہے، تاہم ماضی میں منتخب اسمبلیوں کو بار بار تحلیل کیا جاتا رہا۔انہوںنے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل میں مداخلت کے باعث جمہوری ادارے کمزور ہوئے ہیں۔اس لئے انتخابی اور سیاسی عمل میں مداخلت بند کرکے جمہوری اداروں کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کی بات کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ ملک میں حقیقی عوامی نمائندگی پر مبنی نظام کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایک حقیقی منتخب پارلیمنٹ ہونی چاہیے اور قومی فیصلے، بالخصوص داخلہ اور خارجہ پالیسیاں، آزاد اور خودمختار بنیادوں پر مرتب کی جانی چاہئیںجو ملک اور قوم کے وسیع اور بہتر مفاد میں ہوں جب تک ہم ایسا میکانزم اور آزاد خود مختار پالیسیاں ترتیب نہیں دیں گے اس وقت تک ہمیں ایسے بحرانوں سے چھٹکارا نہیں مل سکتا انہوں نے کہاکہ چمن میں ایک جلسے کے دوران مبینہ متنازع خطاب کے الزام پر ولی اچکزئی نامی شخص کی مدعیت میں چمن سٹی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جسے اب بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے کیونکہ اس ایف آئی آر میں درج کیا گیا متن آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتا