Live Updates

پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے میں زرعی شعبہ انقلابی تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، شہبارشریف

زرعی شعبے کی پائیدار ترقی اور زرعی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے ملک بھر سے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت

منگل 9 جون 2026 19:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جون2026ء) وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے میں زرعی شعبہ انقلابی تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف سے زرعی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے وفد نے ملاقات کی جس میںکسان تنظیموں، ڈیری و لائیو اسٹاک، ویلیو ایڈڈ سیکٹر، بیج بنانے والی کمپنیوں اور قومی اور ملٹی نیشنل اداروں کے نمائندے شامل تھے۔

مالی سال 2026-2027 کے وفاقی بجٹ سے قبل اس ملاقات کا مقصد بجٹ کے حوالے سے زرعی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت تھی،شرکا نے موجودہ علاقائی صورتحال میں امن کے قیام کیلئے وزیراعظم کی قیادت میں امن کی کوششوں کو سراہا۔شرکا نے حالیہ متعارف کرائی گئی، سیڈ پالیسی اور زرعی اصلاحات کا خیر مقدم کیا اور اسے زرعی شعبے کیلئے گیم چینجر قرار دیا۔

(جاری ہے)

وزیر عظم نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے میں زرعی شعبہ انقلابی تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے تعاون سے PARC کو زرعی تحقیق میں تیزی لانے کیلئے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے زرعی شعبے کی پائیدار ترقی اور زرعی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے وزیراعظم کی ملک بھر سے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر روابط اور وفاقی اور صوبائی پالیسیوں و ضوابط میں ہم آہنگی یقینی بنائی جائے ۔

وزیراعظم نے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہائبرڈ بیجوں کے فروغ، باغبانی کی ترقی، زرعی میکانائزیشن اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ، وزیر اعظم نے کہاکہ کپاس کی پیداوار میں اضافے کیلئے صوبے، بالخصوص بلوچستان، جامع منصوبہ پیش کریں ۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ازسرنو تشکیل شدہ کاٹن بورڈ کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

وزیراعظم نے شرکا کی جانب سے ڈیری اور لائیو اسٹاک کے فروغ کیلئے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم۔، وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت زرعی شعبے کی پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور قومی معیشت کے استحکام کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی ۔وفد کو حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے حوالیسے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

بتایاگیاکہ زرخیزی اسکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو بینکوں کی جانب سے 1 ملین روپے تک کی آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں ۔ بتایاگیاکہ کسانوں کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب رسک کوریج اسکیم اور کراپ لاس انشورنس فراہم کی جارہی ہے ۔ بتایاگیاکہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کی ترقی کیلئے نیشنل اینیمل ہیلتھ ایکٹ اور نیشنل بریڈنگ پالیسی کے مسودات تیار کر لئے گئے ہیں ۔

وفد کے شرکا نے زرعی شعبے سے متعلق اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور انکے حل کے لئے تجاویز پیش کیں۔وفد نے پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہا اور حکومت کی معاشی و ترقیاتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔وفد میں ارشد اقبال ، ذیشان بیگ، محمود نواز شاہ ، عماد ملک، رانا نسیم ، احسن مصطفی باجوہ، جہانگیر ترین ، فہد پٹیل، شہزاد امین ، خضر عالم خان، آمنہ آصف باجوہ، ظہور حسین ، عثمان ظہیر، احمد قادر، آفاق ٹوانہ، شوکت رسول، خالد کھوکھر شامل تھے۔

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک , وفاقی وزیر آبی وسائل محمد معین وٹو ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات