’تم ناچو تو فیشن، ہم ناچیں تو مجرا‘ علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک

لوگوں کو عزت دو، یہ آپ کے زرخرید ملازم یا غلام نہیں ہیں کہ آپ شروع ہو جائیں اور جو دل میں آئے کہہ دیں؛ صوبائی صدر پی ٹی آئی اور کابینہ کو کھری کھری سنا دیں

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 11 جون 2026 13:22

’تم ناچو تو فیشن، ہم ناچیں تو مجرا‘ علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض ارکان سے رابطوں پر پابندی اور انہیں شوکاز نوٹسز جاری کرنے کے معاملے پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور کی ایک مبینہ آڈیو لیک نے صوبائی سیاست اور پارٹی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے، آڈیو میں علی امین گنڈاپور نے ناراض ارکان کو نوٹسز دینے اور مبینہ دھمکیاں دینے پر موجودہ صوبائی صدر اور کابینہ کو شدید آڑے ہاتھوں لیا اور اسے سیاسی جماعت کے بجائے ڈکٹیٹرشپ قرار دیا۔

مبینہ آڈیو لنک میں علی امین گنڈاپور نے پارٹی ارکان کو جاری کیے جانے والے تادیبی نوٹسز پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی معاملات میں ڈکٹیٹرشپ کی پالیسی چلانا اور اراکین کو دھڑا دھڑ نوٹسز جاری کرنا کسی بھی طور پر معقول نہیں ہے، کسی سیاسی جماعت میں ایسا طریقہ کار نہیں ہوتا، لوگوں کو عزت دو، یہ آپ کے زرخرید ملازم یا غلام نہیں ہیں کہ آپ شروع ہو جائیں اور جو دل میں آئے کہہ دیں، اگر کسی بندے کو پارٹی یا حکومت سے کوئی تحفظات ہیں، تو اس کو دھمکیوں کے بجائے محبت اور عزت کے ساتھ ڈیل کیا جانا چاہیئے۔

(جاری ہے)

 
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے موجودہ قیادت کو ان کا ماضی یاد دلاتے ہوئے انتہائی سنگین انکشافات اور الزامات عائد کیے کہ یہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہمارے موجودہ صوبائی صدر نے خود اپنی ہی صوبائی حکومت کے خلاف میڈیا پر جا کر باتیں کی تھیں، موجودہ پارلیمنٹ اور گروپ میں شامل جن لوگوں نے ماضی میں اسمبلی کے فلور اور میڈیا پر کھڑے ہو کر پی ٹی آئی کی پوری کابینہ پر کرپشن کے کھلے الزامات لگائے تھے، آج وہی لوگ خود کابینہ کا حصہ بنے بیٹھے ہیں اور مزے سے وزارتیں چلا رہے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان وزراء میں سے ایک بندہ ایسا بھی ہے جس نے الزام لگایا تھا کہ پوری کابینہ کرپٹ ہے، اور اس کابینہ میں آج کے موجودہ وزیراعلیٰ بھی شامل تھے، آج وہ بندہ خود وزیر بن کر بیٹھا ہے، کیا کسی نے اس وقت اسے کوئی نوٹس دیا؟ کسی نے اس سے پوچھ گچھ کی؟ کم از کم میں نے تو کسی کو نوٹس نہیں دیا تھا، کیونکہ میرے میں ظرف ہے، اگر اس وقت پارٹی کے انہی عہدیداروں نے اپنے اوپر یا دوسروں پر نوٹس لیا ہوتا تو آج لوگ ان کی بات کو تسلیم کرتے، اب اس سارے معاملے میں واضح دوہرا معیار نظر آ رہا ہے۔

علی امین گنڈاپور نے صاف الفاظ میں وارننگ دی کہ یہ جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس سے چیزیں بہتر نہیں بلکہ مزید خراب ہو رہی ہیں، یہ پارٹی کسی ایک کی نہیں بلکہ سب کی ہے، دوسروں کو نوٹس دینے سے پہلے اپنے پچھلے کردار کو دیکھیں اور خود کو نوٹس دیں، جو شوکاز یا تادیبی نوٹسز نکالے گئے ہیں، انہیں پارٹی کے واٹس ایپ گروپس میں ہرگز شیئر نہ کیا جائے، یہ جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے، اس سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان پہنچ رہا ہے، اگر کوئی میری ان باتوں کا ثبوت مانگے گا، تو میں سب کے سامنے ثبوت رکھ دوں گا۔