یو این ایچ سی آراور قائداعظم یونیورسٹی کا مہاجرین کے تحفظ، بے وطنی، ہجرت اور جبری نقل مکانی سے متعلق تحقیق کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط

جمعہ 12 جون 2026 18:26

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2026ء) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) اور قائداعظم یونیورسٹی (کیو اے یو) نے مہاجرین کے تحفظ، بے وطنی، ہجرت اور جبری نقل مکانی سے متعلق تحقیق، تعلیم اور علمی تعاون کے فروغ کے لیے تعاون کے فریم ورک معاہدے (سی ایف اے) پر دستخط کر دیئے۔ عالمی یومِ مہاجرین سے قبل قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب میں تنازعات، ظلم و ستم اور تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے تحفظ اور انہیں محفوظ پناہ حاصل کرنے کے حق کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ معاہدے کے تحت مہاجرین کے تحفظ، بے وطنی، ہجرت اور جبری نقل مکانی سے متعلق تعلیمی تحقیق، نصاب کی تیاری، استعداد کار بڑھانے کے اقدامات اور پاکستان اکیڈمک کنسورشیم آن ریفیوجی لا اینڈ مائیگریشن (PACRAM) کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس تعاون کا مقصد پاکستان میں نقل مکانی سے متعلق امور پر مکالمے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے ڈپٹی نمائندے آسکر سانچیز نے کہا کہ عالمی یومِ مہاجرین 2026 کا موضوع ’’جب تک ہر شخص محفوظ نہیں‘‘ اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تحفظ کا آغاز ہر انسان کے محفوظ پناہ حاصل کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے حق سے ہوتا ہے۔

انہوں نے گزشتہ 45 برسوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے علم، تحقیق اور نئی نسل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ مہاجرین اور دیگر کمزور طبقات کے لیے مؤثر تحفظ اور پائیدار حل تلاش کیے جا سکیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ جامعات عالمی چیلنجز کو سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کے ساتھ یہ شراکت داری مہاجرین کے تحفظ اور جبری نقل مکانی سے متعلق تعلیم، تحقیق اور قانونی مطالعات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین عصمت اللہ شاہ نے پاکستان کی جانب سے مہاجرین کی میزبانی اور نقل مکانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی روایت کو اجاگر کیا۔

پاکستان میں جارج اسٹائنر نے یو این ایچ سی آر اور قائداعظم یونیورسٹی کو اس اہم پیش رفت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری مستقبل کے قانونی ماہرین، پالیسی سازوں، محققین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کا مؤثر تحفظ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد تک محدود نہیں بلکہ ایسے اداروں، علم اور قانونی ڈھانچوں کی مضبوطی بھی ضروری ہے جو نقل مکانی کے مسائل کا اصولی اور پائیدار انداز میں جواب دے سکیں۔

تقریب کے آغاز میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن نے تعاون کے فریم ورک معاہدے کے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی اے ایف آئی اسکالرشپ حاصل کرنے والی ایک افغان طالبہ نے تعلیم تک رسائی میں مہاجرین کو درپیش مشکلات اور خصوصاً افغان خواتین کے مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں انہیں پاکستانی اساتذہ اور دوستوں کی جانب سے ہمیشہ عزت اور تعاون ملا، جس سے یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ مہربانی اور دوستی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

یو این ایچ سی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مہاجرین، واپس آنے والے افراد اور میزبان برادریوں کی معاونت جاری رکھے گا تاکہ بے گھر افراد کو تحفظ، مدد اور اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کے مواقع میسر آ سکیں۔