Live Updates

ٌنیشنل پارٹی رہنماء سینیٹر جان محمد بلیدی کا بلوچستان کی تشویشناک صورتحال پر افسوس کا اظہار

منگل 16 جون 2026 21:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 جون2026ء) نیشنل پارٹی کے رہنماء سینیٹر جان محمد بلیدی نے بلوچستان کی تشویشناک صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے اور صوبہ نو گو ایرابن گیا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام شاہراہیں بند ہیں اور بھاری بھرکم قرضے لینے کی وجہ سے پاکستان معاشی بحران کا شکار بن چکا ہے اور مہنگائی عروج پر ہے جس کی وجہ سے برآمدات رک گئی ہے اور صوبوں کو اٹھارویں ترمیم کے وسائل اور اختیارات نہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے بلوچستان سمیت دیگر صوبے مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ جان محمد بلیدی نے کہا کہ حکمران بجٹ میں صوبوں کے ساتھ زیادتی کرکے ان کی آمدن محدود کررہے ہیں جس کی وجہ سے حالات روز بروز گھمبیر صورتحال اختیار کر گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبوں کو مالی و انتظامی اختیارات دیئے گئے کہ وہ ٹیکس وصول کریں گے صوبوں کو جو اختیار ملنا چاہئے جو ان کا بنیادی اختیار ہے وہ نہیں دیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

جو وفاق صوبوں کو دے رہا ہے یہ بات ہی غلط ہے ایسا نہیں جو ملک کی آمدنی ہے وہ 20 ٹریلین آمدنی صوبوں کی ہے اسلام آباد تو 30 سے 40 کلو میٹر کا ہے اس کی کیا آمدنی ہوسکتی ہے ۔ آمدنی، پنجاب ، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی ہے ۔ صوبے بہت زیادہ فنڈز مرکز کو چلانے کے لئے دے رہے ہیں اب مزید صوبوں کے فنڈز کو واپس لینے کی کوشش کی جارہی ہے کوئی نئی ترمیم لانے کی بات کررہے ہیں لوگوں کی توجہ اہم مسائل سے ہٹانے کے لئے مسائل پیدا کئے جارہے ہیں۔

ہمارا انحصار قرضوں پر ایک آئی ایم ایف پروگرام سے نکل کر دوسرے میں جانے کے چکر میں پڑا رہتا ہے ۔ وفاقی حکومتوں کے فیصلوں کے حوالے سے آج تک کوئی بہتری نہیں آئی ہے ہمیشہ آئی ایم ایف سے قرضے لینے پر فخر اور خوشی محسوس کرکے کہتے ہیں کہ ہمیں آئی ایم ایف سے کچھ ملنے والا ہے۔ ملک مزید مشکلات کا متحمل نہیں ہے بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے 2 کروڑ 70 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

ایک کروڑ پرائمری کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہتے ہیں۔ حکومت کی توجہ عوام پر نہیں مہنگائی 29 فیصد بڑھی ہے جبکہ ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے جن کی تنخواہیں نہیں ہیں وہ بے روزگار تو عذاب میں ہیں ۔ جنگ کسی اور ملک میں ہوئی لیوی کے پیسے بڑھا کر تیل کی قیمتیں بڑھارہے ہیں آج جنگ رک گئی لیکن پیٹرول 150 سے 200 روپے ہونا چاہئے۔ لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلا جارہا ہے جوکہ بند ہونا چاہئے۔

بلوچستان نو گو ایریا بن گیا ہے کاروبار بند ڈپٹی کمشنرز صرف اپنے دفاتر تک محدود ہوکر رہ ہوگئے ہیں ۔ کاروبار، ٹرانسپورٹ اور سڑکیں ، سکول اور کالجز بند ہیں۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت کہتی کہ سب کچھ ٹھیک ہے ریڈ زون کے ڈیڑھ کلو میٹر کے علاقے میں بھی حکومت کی رٹ نہیں ہے حکومتی حکام نے قبائلی لوگ وہاں اپنی حفاظت کے لئے بٹھائے ہیں۔ حکومتیں تماشائی بن چکی ہے ہم فیڈریشن اور چاروں صوبوں کی کی نمائندگی کررہے ہیں ایوان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں آگ جل رہی ہے ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس کو کیسے بجھانا چاہئے۔

فارم 47 کی حکومتیں قائم کی ہے ان کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ جنگی منافع خور اور انہیں حالات کی خرابی کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے نہیں جتنی بھی پارٹیاں برسر اقتدار آئی ہیں یہ مخصوص لوگ ہیں انہیں پارٹیوں میں بھیج کر وزارتیں دی جاتی ہیں بلوچستان میںکرپشن کے علاوہ کچھ نہیںہورہا ہے۔ صوبہ کو جس آگ میں دھکیلا گیا ہے اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے اب بھی وقت ہے کہ اس کو سنجیدہ لیا جائے اور لوگوں کے ساتھ بات چیت کرکے عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کا احترام کیا جائے زبردستی ان کو کرسیوں پر بٹھانے والے بلوچستان، بلوچ ،پشتون اور ملک کے کسی صورت دوست نہیںہوسکتے ہیں۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات