Live Updates

ایران مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تودوبارہ حملے کریں گے. پیٹ ہیگستھ کی دھمکی

مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے باوجود اسرائیل کی لبنان میں فوجی کاروائیاں جاری‘جنوبی حصے میں آپریشن جاری رکھا جائے گا. اسرائیلی فوج کا بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 18 جون 2026 16:52

ایران مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تودوبارہ حملے ..
واشنگٹن/تل ابیب(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 جون ۔2026 ) امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکہ ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اس ہفتے دستخط کیے گئے معاہدے کے تحت امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اپریل سے ایران کے ساحل کی جانب آنے یا جانے والے جہازوں کی آمد و رفت رکی ہوئی تھی.

(جاری ہے)

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اگر ایران وہ نہیں کرتا جو وہ کہتا ہے یعنی اپنی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات ترک کرنا، تو وزارتِ جنگ تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کسی بھی فوجی کارروائی اور مذاکرات کا مرکز ایران کے جوہری ہتھیار ہوں گے. امریکی وزیرجنگ نے یہ بھی کہا کہ بعض یورپی ممالک مزید کردار ادا کرنے اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت بحال رکھنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں تاہم انہوں نے براہِ راست برطانیہ سے کہا کہ وہ مزید آگے بڑھے اور مزید کوشش کرے اور اخراجات بڑھائے انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اگر امریکہ کو برطانیہ اور ڈیاگو گارسیا میں فوجی اڈوں تک رسائی درکار ہو تو برطانیہ کو اس کی مدد کرنی چاہیے ڈیاگو گارسیا بحرہند میں واقع چاگوس جزائر کا حصہ ہے جہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ موجود ہے.

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی افواج اب بھی جنوبی لبنان میں کارروائیاں کر رہی ہیں یہ کارروائیاں جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے سکیورٹی زون میں کی جا رہی ہیں اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی موجودگی آپریشنل ضروریات کے باعث ہے اور فوجی دستے خطرات کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے.

قبل ازیں لبنانی ذرائع ابلاغ نے ملک کے جنوبی حصے میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی تھی حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں یہ حملے روکنے کا کہا گیا تھا خیال رہے کہ بنیامن نتن یاہو نے گذشتہ رات امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جانے کے بعد کوئی عوامی بیان نہیں دیا اسرائیلی وزیرِ اعظم اس معاہدے سے خود کو الگ رکھتے دکھائی دیے ہیں انہوں نے اسرائیلی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے.

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق نتن یاہو نے کہا کہ میں نے مختلف بات چیت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جیسا کہ میں نے کہاکہ ہم اکثر متفق ہوتے ہیں اور ہم اکثر اختلاف بھی کرتے ہیں اچھے خاندانوں میں بھی ایسا ہوتا ہے اسرائیل براہِ راست امن مذاکرات میں شامل نہیں رہا . تاہم ٹرمپ نے دستخط سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے معاہدے کے حتمی متن کی ایک نقل اسرائیل کو بھیجی تھی ادھر لبنان کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری ہیں حالانکہ مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ملک میں فوجی کارروائیاں بند ہو جائیں گی دریں اثنا نتن یاہو کی اپنی پارٹی کے ارکان اور ان کی حکومتی اتحادی جماعت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے کابینہ وزرا کے بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ہی سیاسی حلقے سے کس دباﺅ کا سامنا ہے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم ٹرمپ کے معاہدے کے پابند نہیں ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں جو ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات