سعودی عرب کے پرچم بردار تین سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرگئے
اوتاد، جحام اور شادن نامی آئل ٹینکر تنازع کے آغاز سے آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج میں لنگر انداز تھے. میرین ٹریفک ادارے کی رپورٹ
میاں محمد ندیم
جمعرات 18 جون 2026
17:15
(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ ٹینکر تنازع کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج میں لنگر انداز تھے میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق تینوں ٹینکرز نے سعودی عرب کے ساحلی شہر راس تنورہ سے تیل لادا تھا ان میں سے دو نے تنازع شروع ہونے سے پہلے 27 اور 28 فروری کو مال برداری کی تھی جبکہ تیسرے نے جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد 7 مارچ کو تیل لادا اوتاد اور شادن اس وقت بالترتیب کوریا اور جاپان کو اپنی متوقع منزل کے طور پر نشر کر رہے ہیں جحام اس وقت کسی مقام کو نشر نہیں کر رہا. دوسری جانب بی بی سی کے سلامتی امور کے ایڈیٹر فرینک گارڈنر نے لکھا ہے کہ معاہدے پر خلیجی عرب ریاستوں نے محتاط رہتے ہوئے سکھ کا سانس لیا ہے خلیجی ریاستوں کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز معمول کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولی جا رہی ہے جبکہ یہ ممالک امید کر رہے ہیں کہ ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کا سلسلہ اب ختم ہو جائے گا اس مفاہمتی یادداشت کی کامیابی کے باوجود کئی حل طلب معاملات موجود ہیں. انہوں نے لکھا کہ مذکرات میں سب سے اہم جوہری معاملہ ہے آئندہ 60 دن کا عرصہ بہت مختصر ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کس طرح کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے پر کام نہ کر رہا ہو 2015 کے اوبامہ دور کے جے سی پی او اے معاہدے تک پہنچنے میں 60 دن سے 10 گنا زیادہ وقت لگا تھا جسے صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں یکطرفہ طورپر ختم کر دیا تھا. ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی یہ خطرہ برقرار رہے گا ایران سمندری نقل و حرکت کے لیے ایک نیا نظام نافذ کر سکتا ہے جس کے تحت وہ ”ٹول“ وصول کرے گا مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو تعمیر نو کے لیے 300 ارب امریکی ڈالر کا فنڈ ملنا ہے جس کی مالی معاونت بڑی حد تک وہی خلیجی عرب ریاستیں کریں گی جن پر وہ حملے کرتا رہا ہے تاہم بعض ماہرین کے مطابق امریکا براہ راست ایران کو یہ رقم دینے کی پوزیشن میں نہیں ایسی صورت میں اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا کہ وہ ایران کو ہرمزپر ”ٹول“وصول کرنے دے اور اس پر خاموشی رکھے. ان کے نزدیک زیادہ امکان یہی ہے واشنگٹن ”ٹول“والے معاملے پر خاموشی اختیار کرئے گا جبکہ تہران ‘مسقط کے ساتھ مل کر اس اہم سمندری گزرگاہ پر ”ٹول“کی وصولی کویقینی بنائے گا‘ماہرین کے نزدیک چندماہ کے دوران ایران نے کئی جہازوں سے ایک سے دو ملین ڈالر کے حساب سے ٹول وصول کیا ہے مگر مستقل ٹول نافذکرنے کی صورت میں اس رقم میں کمی بیشی ہوسکتی ہے ان کے مطابق تیل بردار جہازوں پر پانچ لاکھ ڈالر فی جہازٹول فیس عائد کیئے جانے کا امکان ہے جبکہ دیگر سازوسامان لیجانے والے بحری جہازوں پر یہ شرح مختلف ہوسکتی ہے.
مزید اہم خبریں
-
جرمنی میں سامیت دشمنی کے واقعات 2025 میں بھی بلند سطح پر رہے
-
وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ
-
یوکرین کا روس پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ، ماسکو پر 194 خود کش ڈرون داغ دیئے
-
سعودی عرب کے پرچم بردار تین سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرگئے
-
وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کا سینڈیکیٹ اجلاس
-
وفاق میں 2 عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے مبینہ طور پر من پسند افسران کو نوازنے کے الزامات
-
ایران مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تودوبارہ حملے کریں گے. پیٹ ہیگستھ کی دھمکی
-
امریکا ، ایرا ن نے جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دئیے، معاہدہ نافذ العمل ہوگیا
-
محرم الحرام ، وزیر داخلہ کی زیر صدارت جائزہ اجلاس، جلوسوں، مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا حکم
-
سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاﺅنس میں 100 فیصد اضافے کی منظوری
-
وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی اور مشیرخزانہ کی عمران خان سے مشاورت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
-
سپریم کورٹ، غیر قانونی بھرتی کیس میں پرویز الہی اور محمد خان بھٹی سے جواب طلب
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.