Live Updates

قومی اسمبلی سے دفاعی بجٹ کسی بھی مخالفت کے بغیر متفقہ طور پر منظور

اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسلح افواج کے لیے 298 ارب روپے سے زائد اور شعبہ دفاع کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر پیش کیے گئے

Sajid Ali ساجد علی اتوار 21 جون 2026 19:45

قومی اسمبلی سے دفاعی بجٹ کسی بھی مخالفت کے بغیر متفقہ طور پر منظور
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2026ء) قومی اسمبلی نے دفاع اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں کے لیے 43 کھرب 85 ارب روپے کے مطالباتِ زر منظور کر لیے، دفاعی بجٹ متفقہ طور پر پاس ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی نے مالی سال 27/2026ء کے وفاقی بجٹ کے تحت ایک اہم ترین مرحلہ مکمل کرتے ہوئے مسلح افواج، دفاعی پیداوار، تعلیم، صحت، مواصلات، آبی وسائل اور دیگر اہم شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 43 کھرب 85 ارب روپے سے زائد مالیت کے 88 مطالباتِ زر منظور کر لیے، ملک کا دفاعی بجٹ ایوان سے متفقہ طور پر پاس ہو گیا، اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں بجٹ کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے مالی مطالبات پر کثرتِ رائے سے منظوری دی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران مسلح افواج کے لیے 298 ارب روپے سے زائد اور شعبہ دفاع کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر پیش کیے گئے، جن کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی اور یوں دفاعی بجٹ بغیر کسی مخالفت کے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، ایوان نے دفاع اور دفاعی پیداوار کے لیے مجموعی طور پر 30 کھرب 69 ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے کے سات مطالباتِ زر کی منظوری دی، اس کے علاوہ مواصلات کے لیے 125 ارب 72 کروڑ 36 لاکھ روپے، وفاقی تعلیم کے لیے 192 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد اور آبی وسائل کے لیے 107 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز منظور کیے گئے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی نے کابینہ سیکرٹریٹ کے لیے 35 ارب 38 کروڑ روپے، خارجہ امور کے لیے 68 ارب 17 کروڑ روپے، قومی صحت کے لیے 53 ارب 28 کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 42 ارب 7 کروڑ روپے، منصوبہ بندی ڈویژن کے لیے 37 ارب 21 کروڑ روپے اور صنعت و پیداوار کے لیے 29 ارب 53 کروڑ 96 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ اسی طرح اطلاعات و نشریات کے لیے 27 ارب 57 کروڑ روپے، تجارت کے لیے 27 ارب 99 کروڑ روپے، قانون و انصاف کے لیے 24 ارب 91 کروڑ روپے، ہاؤسنگ و تعمیرات کے لیے 22 ارب 31 کروڑ روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 19 ارب 54 کروڑ روپے اور اقتصادی امور کے لیے 15 ارب ایک کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی، ریلوے کے لیے 111 ارب 13 کروڑ روپے، بین الصوبائی رابطہ کے لیے 5 ارب 2 کروڑ روپے، بحری امور کے لیے 4 ارب 12 کروڑ روپے، امور کشمیر و گلگت بلتستان کے لیے 3 ارب 18 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔

مزید برآں، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے 3 ارب 73 کروڑ روپے، مذہبی امور کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے اور پارلیمانی امور کے لیے ایک ارب 20 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر بھی منظور کر لیے گئے۔ ایوان نے اپنے اخراجات کے لیے قومی اسمبلی کے لیے 9 ارب 3 کروڑ روپے جبکہ سینیٹ آف پاکستان کے لیے 3 ارب 21 کروڑ روپے کے مطالبات کی بھی منظوری دی۔ تمام مطالباتِ زر کی اس منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور سرکاری اداروں کے اخراجات کے لیے فنڈز جاری کرنے کی باقاعدہ پارلیمانی اور قانونی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات