پاکستان نے چین کو2,000 بھینسوں کے ایمبریوز برآمد کر دئیے

پاکستان مجموعی طور پر2ملین ڈالرکے 10,000 ایمبریوز چین کو برآمد کر چکا ہے

منگل 23 جون 2026 11:53

پاکستان نے چین کو2,000 بھینسوں کے ایمبریوز برآمد کر دئیے
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جون2026ء) پاکستان کی بایوٹیکنالوجی کمپنی ’’رائل سیل بائیوٹیکنالوجی‘‘نے چین کی کمپنی’’رائل سیل بائیوٹیکنالوجی ‘‘کو 2,000 بھینسوں کے ایمبریوز برآمد کیے ہیں۔ یہ برآمد پاکستان کی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور چین کی رائل گروپ کے درمیان طے شدہ میٹریل ٹرانسفر معاہدے کے تحت کی گئی۔

اس سے قبل پاکستان مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 10,000 ایمبریوز چین کو برآمد کر چکا ہے جن کی مالیت تقریباً 2 ملین ڈالر بتائی گئی تھی۔رائل سیل بائیوٹیکنالوجی پاکستان کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر قیصر شہزاد کے مطابق مستقبل کے منصوبے کے تحت چین پاکستان سے کم از کم 3 لاکھ بھینسوں کے ایمبریوز درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین میں بھینس کے دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب اور پاکستانی بھینسوں کے اعلی معیار کے دودھ اوربہترین پیداوار کی وجہ سے ان نسلوں میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ چین جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی بہتر نسل کی بھینسوں کو مزید ترقی دینے کا خواہاں ہے تاکہ دودھ کی پیداوار اور معیار میں اضافہ کیا جا سکے۔چین کی رائل گروپ ملک میں بھینس کے دودھ کی واحد لسٹڈ پروسیسنگ کمپنی ہے۔ رائل سیل بائیوٹیکنالوجی کے اوورسیز بزنس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈرک کِن کے مطابق چین میں بھینس کے دودھ کی سالانہ فروخت کا حجم تقریباً 5 ارب یوآن ہے۔انہوں نے بتایا کہ رائل گروپ چین کی بھینس کے دودھ کی مارکیٹ کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتی ہے جو اس شعبے میں اس کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔