انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس: پانچ ملزمان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

جمعرات 2 جولائی 2026 21:56

انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس:  پانچ ملزمان کا ایک روزہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جولائی2026ء) وفاقی دارالحکومت میں انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت کے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں ایک روز کی توسیع کر دی۔سماعت کے دوران ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی جانب سے 30 کارٹنوں پر مشتمل انسانی پلاسنٹا (Placenta) کی کھیپ ویتنام بھجوائی جا رہی تھی جسے ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ برآمد ہونے والے پلاسنٹا کا مجموعی وزن تقریباً 580 کلوگرام ہے اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے دلائل سننے کے بعد پانچوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں ایک روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں دوبارہ ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے اور ہوٹا (HOTA) ٹیم نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں کارروائی کرتے ہوئے چینی باشندوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ کارروائی کے دوران تازہ، خشک اور پراسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کی بڑی مقدار برآمد کرکے قبضے میں لی گئی تھی۔تحقیقات کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف ہسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرتے تھے جسے پراسیس کرنے کے بعد بھیڑ کے اعضاء ظاہر کرکے بیرون ملک خصوصاً ویتنام برآمد کیا جاتا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔