گرمی کا توڑ، IKEA کا شو روم!

پیرس میں شہریوں نے ٹھنڈی ہوا کیلئے فرنیچر اسٹورز کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا، بستروں اور صوفوں پر مفت اے سی کے مزے

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 جولائی 2026 19:05

گرمی کا توڑ، IKEA کا شو روم!
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی 2026ء) فرانس کا دارالحکومت پیرس ان دنوں اپنی تاریخ کی شدید ترین اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس نے یورپی شہریوں کو بے حال کر دیا، اس جان لیوا گرمی سے بچنے کے لیے پیرس کے شہریوں نے ایک انوکھا اور دلچسپ طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے، جہاں لوگ جوق در جوق مشہور عالمی فرنیچر برانڈ "آئی کے ای اے" (IKEA) کے اسٹورز کا رخ کر رہے ہیں اور وہاں خریداری کے لیے نہیں بلکہ دوپہر کا گرم ترین وقت سکون سے سونے اور ٹھنڈی ہوا کھانے کے لیے گزار رہے ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرس کے آئی کے ای اے اسٹورز میں ان دنوں ایک انتہائی عجیب اور دلچسپ منظر دیکھنے کو مل رہا ہے، اسٹورز کے اندر بنے ہوئے تیار بیڈ رومز، شو رومز اور لونگ رومز کی قطاروں میں عام لوگ مٹر گشت کرتے اور آرام کرتے دکھائی دے رہے ہیں، کوئی ڈسپلے پر رکھے نرم بستروں پر چادر تان کر سو رہا ہے تو کوئی آرام دہ صوفوں میں دھنس کر اپنے موبائل فون پر فلمیں دیکھ رہا ہے، اسٹور انتظامیہ بھی اس غیر معمولی صورتحال پر شہریوں کو تنگ کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ پیرس میں اس وقت بڑے پیمانے پر ریڈ الرٹ نافذ ہے، فرانس اور یورپ کے بیشتر مکانات، دفاتر اور عوامی عمارتیں صدیوں پرانی ہیں جنہیں سردی کو روکنے کے لحاظ سے ڈیزائن کیا گیا تھا، وہاں ایئر کنڈیشننگ کا کوئی نظام موجود نہیں، ایسے میں جب درجہ حرارت آسمان کو چھونے لگا تو آئی کے ای اے (IKEA) جیسے بڑے مالز اور اسٹورز اپنی مفت، طاقتور اور مرکزی ایئر کنڈیشننگ کی بدولت شہریوں کے لیے غیر سرکاری ٹھنڈی پناہ گاہیں بن گئے۔

بتایا جارہا ہے کہ پیرس کے باسیوں کے لیے دوپہر کے بدترین گھنٹے کاٹنا گھروں کے اندر ناممکن ہو چکا ہے، جس کے باعث ناصرف فرنیچر اسٹورز بلکہ بڑے شاپنگ مالز، پبلک لائبریریاں اور ایئر کنڈیشنڈ عجائب گھر بھی اب تفریح کے بجائے صرف خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، لوگ اپنے لیپ ٹاپ اور کتابیں اٹھا کر ان جگہوں پر ڈیرے جما لیتے ہیں تاکہ شدید ہیٹ اسٹروک سے بچ سکیں۔