توشہ خانہ ٹو کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پراعتراضات ختم کرنے کا تحریری حکم جاری

جمعرات 2 جولائی 2026 21:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جولائی2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کا تحریری حکم جاری کر دیا۔جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے 12 مارچ کو ہونے والی سماعت کا تحریری آرڈر جاری کرتے ہوئے اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کی معافی کی درخواستیں منظور کر لیں اور رجسٹرار آفس کے تمام اعتراضات ختم کرتے ہوئے اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگانے کی ہدایت جاری کر دی۔

تحریری حکم کے مطابق اپیل کنندگان کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ اپیلیں 20 دسمبر 2025 کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف 29 دسمبر 2025 کو یعنی 30 روزہ قانونی مدت کے اندر دائر کی گئی تھیں، اس لیے تاخیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں مقدمہ لڑنے والے وکیل کے لیے ہائیکورٹ میں نیا وکالت نامہ جمع کرانا لازمی قانونی تقاضا نہیں تاہم رجسٹرار آفس نے اسی بنیاد پر اعتراض عائد کیا۔

وکیل کے مطابق دیگر اعتراضات بھی معمولی نوعیت کے تھے اور ایسے اعتراضات کی بنیاد پر رجسٹرار آفس اپیلیں واپس نہیں کر سکتا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اپیل ایک بار دائر ہو جائے تو رجسٹرار آفس کا اختیار صرف اسے اعتراضات کے ساتھ عدالت کے روبرو مقرر کرنا ہے جبکہ اعتراضات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت نے جوڈیشل سائیڈ پر کرنا ہوتا ہے۔

تحریری حکم میں کہا گیا کہ اپیل ٹرائل کا تسلسل اور اپیل کنندہ کا قانونی حق ہے جس میں شواہد کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے، لہٰذا کسی بھی اپیل کنندہ کو محض تکنیکی بنیادوں پر اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپیلوں کا فیصلہ فریقین کو سننے اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد میرٹ پر کیا جانا چاہیے۔یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 20 دسمبر 2025 کو 10،10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف دونوں نے 29 دسمبر 2025 کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ عدالت نے 12 مارچ کی سماعت میں آفس اعتراضات ختم کر دیئے تھے جس کا تحریری حکم اب جاری کیا گیا ہے۔