ایف پی سی سی آئی کا ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے پر گہری تشویش کا اظہار

جمعہ 3 جولائی 2026 21:34

ایف پی سی سی آئی کا ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 جولائی2026ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے تجارتی توازن میں شدید بیگاڑ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون 2026 میں ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 4.53 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی گزشتہ کئی برسوں سے حکومت کو متنبہ کرتی آ رہی ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی ملک کے بیرونی کھاتوں کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں برآمدات 16.73 فیصد کمی کے بعد 2.24 ارب ڈالر رہ گئیں؛ جبکہ درآمدات گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 24.07 فیصد اضافے کے ساتھ 6.77 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

(جاری ہے)

صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرم شیخ نے جون 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کو حکومتی معاشی ٹیم کے لیے ایک واضح انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ماہ میں برآمدات میں تقریباً 17 فیصد کمی محض ایک عددی تبدیلی نہیں؛ بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی برآمدی صنعتیں شدید دبا کا شکار ہیں۔

توانائی کے انتہائی زیادہ نرخ، بلند شرحِ سود اور غیر یقینی ٹیکس نظام نے کاروبار کرنے کی لاگت میں بہت اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے نرخوں کو معقول بنایا جائے، برآمد کنندگان کے لیے فائنل ٹیکس رجیم بحال کی جائے اور پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے تاکہ صنعتی یونٹوں کی بندش اور برآمدات میں مزید کمی کو روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2026 کے اختتام پر مجموعی تجارتی خسارہ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ مالی سال 2025 کے مقابلے میں 21.57 فیصد زیادہ ہے۔ سینئر نائب صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق معاشی لحاظ سے قابلِ برداشت نہیں رہا۔ تقریباً 39.47 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کے ساتھ مالی سال کا اختتام پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں پر فوری اور شدید دبا ڈالے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی؛ جس کے تحت لگژری اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے، جبکہ برآمدی صنعتوں کے لیے درکار خام مال کی بلا رکاوٹ دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز سندھ، خصوصا کراچی کے صنعتی علاقوں میں برآمدات میں کمی کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔

بجلی کے ناقابلِ برداشت نرخ، خستہ حال انفراسٹرکچر اور صنعتی زمین کی بلند قیمتیں پیداواری سرگرمیوں میں اضافے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری محصولات اور فیسوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور سندھ بھر میں فاسٹ ٹریک بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔

ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے متفقہ طور پر وزارتِ خزانہ اور وزارتِ تجارت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کریں اور ایک ہنگامی حکمتِ عملی مرتب کریں؛ جس کے ذریعے معیشت کو صرف استحکام کے ماڈل سے نکال کر برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کی جانب منتقل کیا جا سکے۔