ایف پی سی سی آئی کا ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے پر گہری تشویش کا اظہار
جمعہ 3 جولائی 2026 21:34
(جاری ہے)
صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرم شیخ نے جون 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کو حکومتی معاشی ٹیم کے لیے ایک واضح انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ماہ میں برآمدات میں تقریباً 17 فیصد کمی محض ایک عددی تبدیلی نہیں؛ بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی برآمدی صنعتیں شدید دبا کا شکار ہیں۔
توانائی کے انتہائی زیادہ نرخ، بلند شرحِ سود اور غیر یقینی ٹیکس نظام نے کاروبار کرنے کی لاگت میں بہت اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے نرخوں کو معقول بنایا جائے، برآمد کنندگان کے لیے فائنل ٹیکس رجیم بحال کی جائے اور پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے تاکہ صنعتی یونٹوں کی بندش اور برآمدات میں مزید کمی کو روکا جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2026 کے اختتام پر مجموعی تجارتی خسارہ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ مالی سال 2025 کے مقابلے میں 21.57 فیصد زیادہ ہے۔ سینئر نائب صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق معاشی لحاظ سے قابلِ برداشت نہیں رہا۔ تقریباً 39.47 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کے ساتھ مالی سال کا اختتام پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں پر فوری اور شدید دبا ڈالے گا۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی؛ جس کے تحت لگژری اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے، جبکہ برآمدی صنعتوں کے لیے درکار خام مال کی بلا رکاوٹ دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز سندھ، خصوصا کراچی کے صنعتی علاقوں میں برآمدات میں کمی کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بجلی کے ناقابلِ برداشت نرخ، خستہ حال انفراسٹرکچر اور صنعتی زمین کی بلند قیمتیں پیداواری سرگرمیوں میں اضافے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری محصولات اور فیسوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور سندھ بھر میں فاسٹ ٹریک بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے متفقہ طور پر وزارتِ خزانہ اور وزارتِ تجارت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کریں اور ایک ہنگامی حکمتِ عملی مرتب کریں؛ جس کے ذریعے معیشت کو صرف استحکام کے ماڈل سے نکال کر برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کی جانب منتقل کیا جا سکے۔مزید تجارتی خبریں
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 5,200 روپے اضافہ ریکارڈ
-
برائلر گوشت کی قیمت مستحکم
-
100ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہونگے‘خادم حسین
-
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، کے ایس ای 100انڈیکس میں 254.60 پوائنٹس کی کمی
-
پاکستانی طلبہ کو گوگل جیمنی تک ایک سال مفت رسائی خوش آئند ہے، افتخار علی ملک
-
ایس ای سی پی کا انشورنس صارفین کے تحفظ، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور کمپنیوں کے طرزِ عمل میں شفافیت کے لیے مارکیٹ کنڈکٹ رولز کا مسودہ جاری
-
پاکستانی طلبہ کو گوگل جیمنی تک ایک سال مفت رسائی خوش آئند ہے، افتخارعلی ملک
-
برائلر گوشت کی قیمت میںمزید14روپے کلو اضافہ
-
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 78 ہزار 212 پوائنٹس پر پہنچ گیا
-
ملک میں سونے کی قیمتیں گزشتہ روز برقرار رہنے کے بعد گھٹ گئیں
-
ملک میں سونے کی قیمت میں 3,700 روپے کمی، فی تولہ 4 لاکھ 58 ہزار 2 سو 36 روپے ہوگیا
-
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 78 ہزار 613 پوائنٹس پر پہنچ گیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.