پختونوں کا مسئلہ مذہب نہیں پختونوں کا مسئلہ جاھلانہ قبائلی نظام ہے

وہ مذہب کو بھی قبائلی رسم ورواج کی نظر سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں، جب تک قبائلی نظام سے چھٹکارا پا کر وہ جدیدیت کو نہیں اپناتے خون خرابہ جاری رہے گا، فواد چودھری کا ٹویٹ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 3 جولائی 2026 18:36

پختونوں کا مسئلہ مذہب نہیں پختونوں کا مسئلہ جاھلانہ قبائلی نظام ہے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 03 جولائی 2026ء ) سیاسی رہنماء فواد چودھری نے کہا ہے کہ پختونوں کا مسئلہ مذہب نہیں پختونوں کا مسئلہ جاھلانہ قبائلی نظام ہے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ پختونوں کا مسئلہ مذھب نہیں پختونوں کا مسئلہ جاھلانہ قبائلی نظام ہے، وہ مذھب کو بھی قبائلی رسوم ورواج کی نظر سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں، جب تک قبائلی نظام سے چھٹکارا پا کر وہ جدیدیت کو نہیں اپناتے پختونوں میں خون خرابہ جاری رہے گا افغانستان اور پاکستانی بارڈر پر لڑائیاں دراصل قبائلی لڑائیاں ہیں، اسلام تو ترکی، اور Russian States کا بھی مذھب ہے وہاں اس طرح کے مسائل کیوں نہیں جو پختونوں کے ہیں؟ 
اس سے قبل پروفیسر ایم اسماعیل نے ٹویٹ کیا تھا کہ پاکستانی ریاست نے مذہب کو لوگوں کے دماغوں کے اندر اس قدر سختی سے ٹھونسا ہے کہ اب مذہبی جنونیت پاکستان اور خاص کر پختونوں کی پہچان بن گئی ہے۔

(جاری ہے)

یہ ہر بات کو مذہب کی عینک سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے مذہب میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے لیکن روز ان کے  مشکلات اور مسائل بڑھتے ہیں۔