سردار اختر مینگل نے بطور ممبر قومی اسمبلی ملنے والی تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کردیں

مجموعی طور پر 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو جمع کروا دیا گیا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 9 جولائی 2026 15:53

سردار اختر مینگل نے بطور ممبر قومی اسمبلی ملنے والی تمام تنخواہیں اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جولائی 2026ء) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بطور ممبر قومی اسمبلی ملنے والی اپنی تمام تنخواہیں اور مراعات سرکاری خزانے کو واپس کر دی ہیں، انہوں نے اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر لاکھوں روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حوالے کردیا۔ اطلاعات کے مطابق سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی رکنیت کے دوران ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کی واپسی کے لیے مجموعی طور پر 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو جمع کروا دیا، سردار اختر مینگل نے چیک کے ساتھ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ایک خط بھی لکھا، جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ میں 3 ستمبر 2024ء سے لے کر 11 فروری 2026ء تک کی مدت کی تمام تنخواہیں واپس کر رہا ہوں۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ ستمبر 2024ء میں قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے بعد سے انہوں نے اپنے بینک اکاؤنٹ سے کوئی تنخواہ یا الائونس نہیں نکالا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت کرتا ہوں کہ پارلیمانی بینک اکاؤنٹ میں موجود یہ تمام رقم فوری طور پر سرکاری خزانے میں منتقل کی جائے، پبلک سروس میں دیانت داری اور احتساب کے اصولوں پر سختی سے قائم رہنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہوں۔

یاد رہے کہ سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024ء کو بلوچستان کے دیرینہ مسائل پر پارلیمنٹ کے سرد اور مایوس کن رویے کے خلاف بطور احتجاج اپنے حلقہ NA 256 خضدار سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، سردار اختر مینگل کا یہ استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی نے تقریباً ڈیڑھ سال بعد 11 فروری 2026ء کو باقاعدہ طور پر منظور کیا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے استعفے کی تاریخ سے لے کر منظوری کی تاریخ تک کی تمام سرکاری رقم واپس لوٹا دی۔