Live Updates

اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک فلسطینی قصبے کا اپنا دفاعی نظام

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 9 جولائی 2026 15:40

اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک فلسطینی قصبے کا اپنا ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 جولائی 2026ء) جون کی ایک رات تقریباً 15 فلسطینی رضاکار قصبے کے قریب ایک پہاڑی پر جمع ہوئے اور اردگرد کی وادیوں پر نظر رکھے رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آبادکار حملے کا بروقت پتا چلایا جا سکے۔ یہ گروپ مغربی کنارے میں سرگرم دیگر مقامی رضاکار تنظیموں کی طرز پر قائم کیا گیا ہے۔

رضاکار فادی علوان نے کہا کہ فلسطینی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول اسرائیلی فوج اور پولیس آبادکاروں کے حملوں کو روکنے میں ناکام یا غیر مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا، ''ہمارا کوئی نہیں، اسی لیے ہم خود اپنے قصبے کا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘

اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے مغربی کنارے میں سینکڑوں نئی یہودی بستیاں اور آبادکار چوکیاں قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔

(جاری ہے)

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان چوکیوں سے آبادکار حملے کرتے ہیں، جن کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

عالمی برادری کی اکثریت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے، تاہم اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔

اسرائیلی فوج پر آبادکاروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام

فلسطینیوں کا الزام ہے کہ جب وہ اسرائیلی فوج یا پولیس سے مدد طلب کرتے ہیں تو یا تو اہلکار دیر سے پہنچتے ہیں یا آبادکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتے۔

اسرائیلی فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کا کام صرف تصادم کو منتشر کرنا ہے، جبکہ اسرائیلی شہریوں سے متعلق معاملات پولیس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

سنجل میں رضاکار سرچ لائٹس، رات کے گشت اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے نگرانی کرتے ہیں۔ اگر کسی حملے کا خدشہ ہو تو فوری طور پر پیغامات بھیج کر لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے۔

فادی علوان نے بتایا کہ چند روز قبل گندم کی کٹائی کے دوران ایک آبادکار نے کیل دار ڈنڈے سے ان پر حملہ کیا، جبکہ گزشتہ سال رضاکاروں کے نگرانی کے خیمے پر بھی فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے روز اسرائیلی فوج نے وہ خیمہ ہٹا دیا۔ تاہم فوج نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

رضاکارانہ دفاعی نظام ہی تحفظ کا واحد مؤثر ذریعہ

سنجل رام اللہ اور نابلس کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے قصبے کے پانچ میں سے چار داخلی راستے بند کر دیے ہیں اور دھاتی دیوار تعمیر کر کے اسے تقریباً دو ہزار ایکڑ نجی اراضی سے الگ کر دیا ہے۔

بلدیہ کے سربراہ معتز طوافشہ نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث بلدیہ کو مقامی سطح پر حفاظتی انتظامات کرنا پڑے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں آبادکاروں کے حملوں میں دو فلسطینی ہلاک ہوئے، قصبے کی اراضی پر آباد بدوی برادری کے 100 سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جبکہ سنجل کے اندر بھی 20 خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

سنجل کے رہائشی عبد فقہاء نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل آبادکاروں نے ان کے گھر پر پیٹرول بم پھینکا، جس سے گھر میں آگ لگ گئی۔

انہوں نے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے مدد طلب کی، جس کے بعد مقامی نوجوان موقع پر پہنچے اور ان کے وہیل چیئر استعمال کرنے والے والد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

انہوں نے کہا، ''مقامی رضاکاروں نے بروقت مدد کر کے ہماری جان بچائی۔‘‘

سنجل کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مقامی نگرانی اور رضاکارانہ دفاعی نظام ہی ان کے تحفظ کا واحد مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات