پنجاب کے مخصوص علاقوں میں مینوئل فرد کے ذریعے زمین کی منتقلی بحال

اہل علاقوں میں اس قسم کے تمام تر لین دین کے لیے 'گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ' حاصل کرنے یا اسے پیش کرنے کی لازمی شرط کو بھی فی الحال مکمل طور پر ختم کر دیا گیا

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 11 جولائی 2026 15:19

پنجاب کے مخصوص علاقوں میں مینوئل فرد کے ذریعے زمین کی منتقلی بحال
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی 2026ء) صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں میں جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے شہریوں کے لیے صوبائی حکومت نے ریلیف دے دیا، حکومت نے زمین کی منتقلی کے لیے مینوئل یعنی ہاتھ سے لکھے لینڈ ریکارڈز کے استعمال کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے ’فرد‘ کے اجراء کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جائیداد کی منتقلی کی یہ بحال شدہ سروس پنجاب کے ان مخصوص علاقوں کے لیے ہے جہاں زمین کے ریکارڈ کو اب تک ڈیجیٹلائز یعنی کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جا سکا ہے، ان علاقوں میں اب جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی کے عمل کو ایک بار پھر دستی 'فرد' یا تصدیق شدہ سرکاری لینڈ ریکارڈ کی کاپی کے ذریعے مکمل کیا جا سکے گا۔

بتایا گیا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے اہل علاقوں میں اس قسم کے تمام تر لین دین کے لیے 'گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ' حاصل کرنے یا اسے پیش کرنے کی لازمی شرط کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں پنجاب میں ’نقل اراضی ریکارڈ‘ کو پہلی بار باقاعدہ قانونی دستاویز کا درجہ دے دیا گیا، پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کا اہم نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، ’نقل اراضی ریکارڈ‘ اب زمینوں کے لین دین میں قانونی طور پر قابلِ قبول ہوگا، خرید و فروخت، انتقال، رجسٹری اور دیگر اراضی معاملات میں ’نقلِ اراضی ریکارڈ‘ کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی، اس سے قبل ’نقلِ اراضی ریکارڈ‘ کی قانونی حیثیت واضح نہیں تھی۔

بتایا جارہا ہے کہ نئے نوٹیفکیشن سے نقل اراضی پر موجود ابہام دور کر دیا گیا۔تمام ڈپٹی کمشنرز، رجسٹرارز، سب رجسٹرارز اور متعلقہ اداروں کو فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کردی گئیں، فیصلے سے اراضی کے ریکارڈ میں شفافیت، یکسانیت اور زمینوں کے لین دین میں قانونی تحفظ مزید مضبوط ہوگا، نئے اقدام سے عوام کو اراضی کے معاملات میں زیادہ آسان، موثر اور قابلِ اعتماد ریونیو خدمات میسر آئیں گی۔

متعلقہ عنوان :