انڈیا: آسام میں انسانی حقوق کارکنوں کی حراست پر یو این ماہرین کو تشویش

یو این اتوار 19 جولائی 2026 01:45

انڈیا: آسام میں انسانی حقوق کارکنوں کی حراست پر یو این ماہرین کو تشویش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 19 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کے ماہرینِ انسانی حقوق نے انڈیا کی ریاست آسام میں قدیمی مقامی برادری سے تعلق رکھنے والے حقوق کے پانچ کارکنوں کی حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف الزامات مقامی باشندوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے سرگرم کارکنوں کی قانونی جدوجہد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے، انہیں ایسی اطلاعات پر تشویش ہے کہ ان کارکنوں کو قدیمی مقامی باشندوں کی زمینوں اور حقوق کے تحفظ کی پرامن جدوجہد کی پاداش میں آزادی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

ایسی گرفتاریاں اور مقدمات شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دوسروں کو بھی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے سے روک سکتے ہیں۔

Tweet URL

اطلاعات کے مطابق، ریاست آسام کی پولیس نے 29 جون کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک پرناب ڈولے، راجیب پیگو، بریجیت کتم، امیت ناگ اور بھاسکر سیکیا کو گرفتار کیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ احتجاج کازیرنگا نیشنل پارک کے قریبی علاقے انگلے پتھر میں ایک پرتعیش سیاحتی منصوبے کی مجوزہ تعمیر کے خلاف کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ منصوبہ آسام کی حکومت اور جونیپر ہوٹلز کے درمیان معاہدے کا حصہ ہے اور اس کا تعلق حیات ہوٹل گروپ سے بھی ہے۔

قدیمی مقامی باشندوں کی حق تلفی

کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ دھمکیاں، گرفتاریاں، نگرانی، انتقامی کارروائیاں اور قانونی ہراسانی قدیمی مقامی باشندوں اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی سلامتی اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق فیصلوں میں آزادانہ شرکت کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق کے کارکنوں کو یہ حق محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کی اجازت دیں اور انہیں دھمکیوں، انتقامی کارروائی یا بے جا فوجداری مقدمات کے خوف کے بغیر اپنا کام کرنے کا موقع ملے۔

انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ان گرفتاریوں میں ملوث مقامی پولیس کے خلاف ماضی میں تشدد اور بدسلوکی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

حکام کو چاہیے کہ وہ حقوق کے تمام زیرحراست کارکنوں کے ساتھ وقار اور احترام پر مبنی سلوک کریں اور ان کے تمام حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔

کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کارکنوں کو محض اپنے بنیادی حقوق کے پرامن استعمال کی وجہ سے حراست میں رکھا گیا ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اگر ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے تو وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔ مزید برآں، متاثرہ مقامی باشندوں سے بامعنی مشاورت اور ان کی آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی حاصل کیے بغیر زمین کے حصول یا ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد معطل رکھا جائے۔

ماہرین نے یاد دلایا ہے کہ کاروباری اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں، تعمیراتی منصوبوں سے مقامی آبادی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی نشاندہی کریں، انہیں روکنے اور ان کا ازالہ کرنے کے اقدامات اٹھائیں اور یقینی بنائیں کہ ایسے منصوبوں پر خدشات ظاہر کرنے والے لوگوں کو انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے انڈیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کریں جس میں مختلف خصوصی نمائندوں کی انڈیا کے دورے سے متعلق زیر التوا درخواستوں کی منظوری بھی شامل ہے۔

ماہرین اس معاملے پر پہلے ہی انڈیا کی حکومت سے باضابطہ رابطہ کر چکے ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔