Live Updates

امریکہ ایران جنگ: شہری املاک پر جاری حملے تشویشناک، یو این چیف

یو این اتوار 19 جولائی 2026 01:45

امریکہ ایران جنگ: شہری املاک پر جاری حملے تشویشناک، یو این چیف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 19 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری خطرناک عسکری کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں حملوں سے اہم شہری تنصیبات کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔

ادارے کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل کو خاص طور پر ایران اور خطے کے دیگر حصوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر سخت تشویش ہے اور ایسے حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔

ایک ماہ قبل ایران اور امریکہ نے جنگ بندی کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے اور یہ پیش رفت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے اواخر میں ایران پر شروع کی گئی شدید بمباری کے بعد سامنے آئی تھی۔

(جاری ہے)

جمعہ کو کویت حکام نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حملوں میں ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والا پلانٹ متاثر ہوا ہے جبکہ اس نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے بھی ملک میں شہری تنصیبات پر امریکہ کے حملوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

پائیدار اور پرامن تصفیے کی ضرورت

ایران اور امریکہ نے ایک ماہ قبل جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے عبوری معاہدے میں ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

اسی دوران، ایران نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کا حتمی کنٹرول اسی کے پاس ہو گا اور اسے بحری جہازوں سے محصول وصول کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ امریکہ اور عالمی برادری نے اس تشریح کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ اور بلا معاوضہ آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں اور جوابی حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، امریکہ کے حملوں میں ایران کے اندر پلوں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر مزید حملوں کے بعد آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر بند ہو گئی ہے۔

سیکرٹری جنرل واضح کیا ہے کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔ انہوں نے پائیدار اور پرامن تصفیے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بین الاقوامی جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کی مکمل بحالی بھی شامل ہونی چاہیے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات