ہم نے 1100 کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا ہے

جبکہ پاکستان کی وزیراعلیٰ پنجاب نے1100 کروڑ روپے کا جہاز خریدا ہے، یہ فرق ہے! بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کا تقریب سے خطاب

ہفتہ 18 جولائی 2026 20:53

ہم نے 1100 کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا ہے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 18 جولائی 2026ء ) بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گیارہ سو کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے گیارہ سو کروڑ روپے کا جہاز خریدا ہے، یہ فرق ہے! سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کررہی ہے کہ جس کے تحت بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 1100 کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا ہے جبکہ پاکستان میں پنجاب کی وزیراعلیٰ نے 1100 کروڑ روپے کا جہاز خریدا  ہے، یہ فرق ہے۔

اسی طرح بھگونت مان، وزیراعلیٰ انڈین پنجاب کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ خزانہ خالی، خزانہ خالی ، شورمچائی چلے گئے ہیں، میں نے کبھی کہا؟ ساڑھے چار سال ہونے کو ہیں کیونکہ میں نے لیک ایج بند کردی، اب بڑوں کیلئے خزانہ ضرور خالی ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے پیٹ بھرنے بند ہوگئے ہیں، ان کا پیسہ جانا بند ہوگیا ہے، ساری سکیمیں بھی چل رہی ہیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے مبینہ طور پر لگ بھگ 11 ارب روپے مالیت کا سرکاری طیارہ (گلف اسٹریم) خریدنے کی خبر سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں، بعض صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں نے شدید تنقید کی۔ حکومت نے اس خریداری کا دفاع بھی کیا۔ پی ٹی آئی رہنماء شیخ وقاص اکرم نے کہا تھا کہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں اربوں روپے کا وی آئی پی طیارہ خریدنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ کفایت شعاری کے دعووں کے برعکس ہے۔

مزمل اسلم نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص تقریباً 10 ارب روپے میں فروخت کیے، جبکہ پنجاب حکومت نے تقریباً اتنی ہی رقم میں ایک طیارہ خرید لیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایک طرف حکومت پی آئی اے کی نجکاری پر خوشی منا رہی ہے، دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے لگژری طیارہ خریدا جا رہا ہے، جو اشرافیہ کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں بھی اس معاملے پر احتجاج ہوا۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ صرف وزیراعلیٰ کی ذاتی سہولت کے لیے نہیں خریدا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ مجوزہ Air Punjab منصوبے کے لیے حاصل کیے جانے والے بیڑے (Fleet) کا حصہ ہے، اور اسے مستقبل کی ایئرلائن منصوبہ بندی سے جوڑا گیا۔ یوں اس معاملے پر اپوزیشن اسے عوامی وسائل کا غیر ضروری استعمال قرار دے رہی ہے، جبکہ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ طیارے کی خریداری مستقبل کے ایوی ایشن منصوبے کا حصہ ہے، نہ کہ صرف وزیراعلیٰ کے ذاتی استعمال کے لیے۔