سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار

30 آٹو ڈس ایبل سرنجز غیر معیاری اور جعلی پائی گئی ہیں، آٹوڈس ایبل سرنجز صرف ایک بار استعمال کے لیے ہوتی ہیں

منگل 14 جولائی 2026 13:57

سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جولائی2026ء) ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے مختلف ایلوپیتھک و ہربل ادویات اور سرنجز کے 79 نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار دے دیے۔ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے جنوری سے 13 جولائی کے درمیان لیے گئے ادویات اور سرنجز کے نمونوں کی ٹیسٹنگ رپورٹ جاری کردی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2461 نمونوں میں سے 79 نمونے منظور شدہ معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق 30 آٹو ڈس ایبل سرنجز غیر معیاری اور جعلی پائی گئی ہیں، آٹوڈس ایبل سرنجز صرف ایک بار استعمال کے لیے ہوتی ہیں، سپلائی کی جانے والی بعض سرنجز مکمل طور پر آٹو ڈس ایبل نہیں ہیں، غیر معیاری ہونے کے باعث آٹوڈس ایبل سرنجزکا دوبارہ استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کے مطابق ایک ہی سرنج کو مختلف مریضوں پر استعمال کرنے سے انفیکشن اور علاج متاثر ہونے کا خدشہ ہے، معیاری آٹوڈس ایبل سرنجز سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچا جاسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں 20 ہربل مصنوعات میں ایلوپیتھک اجزا کی موجودگی پائی گئی جبکہ 9 ادویات ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔