Live Updates

کسٹمز میں غلط بیانی ثابت کیے بغیر کارروائی نہیں ہو سکتی، شوکاز نوٹس مقررہ مدت کے بعد جاری ہو تو غیر موثر ہوگا، سپریم کورٹ

منگل 14 جولائی 2026 17:11

کسٹمز میں غلط بیانی ثابت کیے بغیر کارروائی نہیں ہو سکتی، شوکاز نوٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جولائی2026ء) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 32 کے تحت کارروائی کے لیے محکمہ کسٹمز پر یہ لازم ہے کہ وہ جان بوجھ کر غلط ڈیکلریشن، جھوٹی دستاویزات یا دھوکہ دہی ثابت کرے جبکہ قانون کی غلط تشریح سے متعلق معاملات میں مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد جاری کیا گیا شوکاز نوٹس موثر نہیں رہتا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میان گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کسٹمز سے متعلق دو الگ مقدمات کا فیصلہ سنایا۔پہلے مقدمے میں ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ، کسٹم ہائوس لاہور نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

(جاری ہے)

محکمہ کسٹمز کا موقف تھا کہ 2010 سے 2012 کے دوران ریشمی کپڑے کی درآمد میں ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کی گئی، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف یہ ثابت ہونا کہ درآمدی مال کی ظاہر کردہ قیمت دیگر درآمدی کھیپوں سے کم تھی، دفعہ 32 کے تحت کارروائی کے لیے کافی نہیں۔ عدالت نے کہا کہ محکمہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ درآمد کنندہ نے جان بوجھ کر غلط ڈیکلریشن، جھوٹا بیان یا جعلی دستاویزات جمع کرائے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹربیونل اور لاہور ہائی کورٹ کے حقائق پر مبنی نتائج قانون کے مطابق ہیں اور ان میں کسی قانونی یا عدالتی غلطی کی نشاندہی نہیں کی گئی اس لیے محکمہ کسٹمز کی اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔دوسرے مقدمے میں پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ مقدمہ پاکستان بحریہ کے جہازوں کو ہائی سپیڈ ڈیزل کی فراہمی پر کسٹمز ڈیوٹی سے استثنا اور شوکاز نوٹس کی مدتِ معیاد سے متعلق تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پی ایس او کے خلاف شوکاز نوٹس میں دھوکہ دہی، جعلسازی، حقائق چھپانے یا دانستہ غلط بیانی کا کوئی الزام نہیں تھا بلکہ معاملہ صرف کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 106 کی قانونی تشریح سے متعلق تھا، اس لیے اس پر دفعہ 32(3) کا اطلاق ہوتا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ 1999 میں نافذ قانون کے مطابق ایسے معاملات میں شوکاز نوٹس6 ماہ کے اندر جاری ہونا ضروری تھا جبکہ پی ایس او کو نوٹس تقریباً ڈھائی سال بعد جاری کیا گیا اس لیے وہ مدتِ معیاد سے باہر اور قانونی طور پر غیر موثر تھا۔

سپریم کورٹ نے پی ایس او کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ، کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل اور اصل حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا جبکہ 26 جون 2002 کا شوکاز نوٹس بھی قانوناً غیر موثر قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات