پنجاب میں انتہائی خفیہ نوعیت کی قانون سازی کا انکشاف

کسی مقدمہ کو ’اسپیشل سکیورٹی کیس‘ قرار دے کر جج، گواہ، مدعی، ملزم، وکیل کے نام اور عدالتی آرڈرز خفیہ رکھ کر ٹرائل چلایا جاسکے گا، کورٹ روم میں میڈیا کا داخلہ بھی نہیں ہوگا؛ کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کی رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 جولائی 2026 15:11

پنجاب میں انتہائی خفیہ نوعیت کی قانون سازی کا انکشاف
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی 2026ء) پنجاب حکومت ایک ایسی غیر معمولی اور انتہائی خفیہ نوعیت کی قانون سازی کرنے جا رہی ہے جس کے تحت صوبے میں دائر ہونے والے مخصوص کیسز میں جج، درخواست گزار، رسپانڈنٹ اور گواہ سمیت کسی بھی کردار کا نام سامنے نہیں لایا جائے گا۔ سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت پورے عدالتی عمل، گواہوں کے بیانات اور یہاں تک کہ عدالتی حکم ناموں کو بھی خفیہ رکھا جائے گا، جس پر قانونی حلقوں کی جانب سے آئین کے تحت 'منصفانہ ٹرائل' کے حق پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس نئے قانون کے تحت کسی بھی مقدمے کو "اسپیشل سکیورٹی کیس" قرار دیا جا سکے گا، اس مقصد کے لیےوفاقی حکومت گریڈ 20 کے ایک اعلیٰ افسر کو تعینات کرے گی، جس کا اپنا نام بھی خفیہ رکھا جائے گا، یہ بیسویں گریڈ کا افسر کیس کا جائزہ لے گا اور یہ طے کرے گا کہ متعلقہ مقدمہ غیر معمولی تحفظ دینے کے لیے "اسپیشل سکیورٹی کیس" کی کیٹیگری میں آتا ہے یا نہیں۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ گریڈ 20 کے افسر کی منظوری کے بعد یہ معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھیجا جائے گا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیں گے، اس کے بعد وہ پورے پنجاب میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں سے کسی ایک جج کا انتخاب کریں گے جو اس کیس کی سماعت کرے گا، حیران کن طور پر منتخب کیے جانے والے اس جج کا نام بھی مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔

بتایا جارہا ہے کہ کیس کی انکوائری، باقاعدہ ٹرائل اور عدالتی کارروائی تینوں خفیہ رکھی جائیں گی، حتیٰ کہ یہ ٹرائل کس جگہ پر ہو رہا ہے، اس جگہ کا نام اور پتہ بھی کسی کو معلوم نہیں ہوگا، اس تمام تر عمل میں صرف وہ گریڈ 20 کا افسر، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور متعلقہ جج ہی شامل ہوں گے، سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت میں روایتی کارروائی کے برعکس ہر چیز کو خفیہ کر دیا جائے گا، مقدمے کے دونوں فریقین یعنی کمپلیننٹ اور رسپانڈنٹ کے نام اور ان کے اصل عہدے بھی مکمل خفیہ رکھے جائیں گے۔

سینئر کورٹ رپورٹر نے بتایا کہ پنجاب پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس اسپیشل سکیورٹی کیس کے لیے ایک خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کی جائے گی، لیکن اس ٹیم میں شامل وکلاء کے نام بھی خفیہ رہیں گے، مقدمے کے دوران پیش کیے جانے والے تمام تر دستاویزی شواہد، فرانزک رپورٹس اور عدالتی احکامات بھی خفیہ رکھے جائیں گے، گواہوں کو عدالت میں بلانے اور عدالتی آرڈر شیٹ میں ان کا تذکرہ کرنے کے لیے ان کے اصل ناموں کے بجائے مخصوص "کوڈ ورڈز" الاٹ کیے جائیں گے۔

مزید یہ کہ اس قانون سازی کے تحت ہونے والے ٹرائلز کے دوران کورٹ روم کے اندر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی، عدالت کے اندر عام عوام اور میڈیا کے نمائندوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی، کمرۂ عدالت میں صرف جج، پراسیکیوشن ٹیم اور ڈیفنس ہی موجود ہو سکیں گے، بظاہر تو پنجاب حکومت کی جانب سے یہ انتہائی سخت قانون سازی خطرناک اور ہارڈ کور مجرموں کے خلاف کارروائی کے لیے کی جا رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو ایک آزاد اور شفاف ماحول میں 'منصفانہ ٹرائل' کا بنیادی حق دیتا ہے، اس قانون سازی کے بعد یہ بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اس قدر رازداری کے بعد ملزمان کو آئین کے تحت فیئر ٹرائل کی سہولت مل سکے گی؟ کیا ملزمان اپنی مرضی اور پسند کے وکیل کا انتخاب کر پائیں گے؟ اور کیا وہ اپنے دفاع کے لیے آزادانہ قانونی حکمتِ عملی تیار کرسکیں گے؟ حکومت کی جانب سے تاحال ان اہم ترین آئینی سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔