جنگوں اور گمراہ کن معلومات کے باوجود بچوں میں ویکسین کی شرح میں اضافہ

یو این جمعرات 16 جولائی 2026 01:45

جنگوں اور گمراہ کن معلومات کے باوجود بچوں میں ویکسین کی شرح میں اضافہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 جولائی 2026ء) جنگوں، غلط و گمراہ کن معلومات اور دیگر مسائل کے باوجود حفاظتی ٹیکے (ویکسین) لگوانے والے بچوں کی شرح میں قدرے اضافہ ہوا ہے تاہم عالمی سطح پر ان کی تعداد اب بھی 2019 کے مقابلے میں ایک فیصد کم اور 2009 سے اب تک ایک محدود دائرے میں برقرار ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) اور عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی جانب سے رکن ممالک میں حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی تعداد سے متعلق جاری کردہ تازہ ترین تخیموں کے مطابق، گزشتہ سال 90 فیصد (تقریباً 11 کروڑ 60 لاکھ) نوزائیدہ بچوں کو خناق، تشنج اور کالی کھانسی سے بچاؤ کی ویکسین(ڈی ٹی پی) کی کم از کم ایک خوراک دی گئی۔

85 فیصد یا تقریباً 11 کروڑ بچے ایسے تھے جنہیں ان کی تینوں خوراکیں میسر آئیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

گزشتہ سال ایک کروڑ 35 لاکھ بچوں کو زندگی کے پہلے سال دوران کوئی بھی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگایا گیا۔

اگرچہ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً سات لاکھ 50 ہزار کم ہے لیکن اب ایسے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں ابتدائی حفاظتی ٹیکے تو لگائے جاتے ہیں لیکن ان کا کورس مکمل نہیں ہو پاتا۔

ان میں زیادہ تر بچے ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں ملکی سطح پر حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگراموں کو گاوی ویکسین اتحاد کی معاونت حاصل ہے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران نمایاں کمی کے بعد حکومتوں اور طبی کارکنوں کی کوششوں سے عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کی شرح دوبارہ بہتر ہوئی ہے، لیکن تنازعات، نقل مکانی اور غربت کے باعث لاکھوں کمزور بچے اب بھی ویکسین سے محروم ہیں۔

حفاظتی ٹیکے: علاقائی صورتحال

195 ممالک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 100 ممالک نے 2019 سے اب تک 'ڈی ٹی پی' ویکسین کی تین خوراکوں کی کم از کم 90 فیصد کوریج برقرار رکھی ہے، تاہم اس فہرست میں نئے ممالک کا اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو ممالک 2019 میں 90 فیصد ہدف سے نیچے تھے ان میں سے 30 نے گزشتہ چھ برس میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی جبکہ 65 ممالک یا تو جمود کا شکار ہیں یا مزید پیچھے چلے گئے ہیں۔

ان میں نازک حالات اور تنازعات سے متاثرہ 13 ممالک بھی شامل ہیں۔

امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے خطوں نے حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی تعداد کے حوالے سے 2019 کے مقابلے میں نہ صرف اپنی سابقہ سطح بحال کی ہے بلکہ مزید بہتری بھی دکھائی ہے۔ اس معاملے میں جنوب مشرقی ایشیا اب سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا خطہ بن چکا ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے افریقی، مشرقی بحیرہ روم اور یورپی خطوں میں گزشتہ سال کچھ بہتری آئی، مگر ان کی کوریج اب بھی کووڈ وبا سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔

مغربی الکاہل خطے میں مزید کمی دیکھی گئی جو 2019 کی سطح سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

© WHO India/Ram Prasad Dorjee انڈیا کے علاقے اروناچل پردیش میں حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کے دوران بچوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہیں۔

بدامنی اور وسائل کی قلت

عالمی اور علاقائی سطح پر ان اعداد و شمار کے پیچھے ایسے مستقل عوامل موجود ہیں جو مختلف ممالک میں ویکسینیشن کی شرح کو غیر یقینی اور غیر متوازن بنا رہے ہیں۔

کوئی حفاظتی ٹیکہ نہ لگوانے والے بچوں میں نصف سے زیادہ تنازعات اور کمزور حالات والے ممالک میں رہتے ہیں جبکہ دنیا میں بچوں کی مجموعی آبادی کا صرف ایک تہائی حصہ ان ممالک میں آباد ہے۔

ان علاقوں میں سیاسی عدم استحکام، بدامنی اور مالی وسائل کی کمی کے باعث حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام شدید دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں بھی سیاسی ترجیحات کی تبدیلی، نظام کے مسائل اور ویکسین سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، جنوبی افریقہ میں 2019 کے بعد 'ڈی ٹی پی' کی پہلی خوراک کی کوریج میں 20 فیصد کمی آئی اور 2025 میں بھی یہ رجحان جاری رہا۔

اسی طرح، بوسنیا ہرزیگووینا میں 2024 کے دوران خسرے کی پہلی خوراک کی کوریج میں نمایاں اضافہ ہوا تھا مگر اگلے ہی سال اس میں 23 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ ہر بچہ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے زندگی کو ملنے والے تحفظ کا حقدار ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب، امن کے حالات میں پیدا ہوا ہو یا جنگ کے ماحول میں۔

حفاظتی ٹیکے بچوں کی صحت اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے سب سے موثر، منصفانہ اور کم لاگت اقدامات میں سے ایک ہیں۔

مشترکہ کوششوں کے مثبت نتائج

گزشتہ 25 سال کے دوران حکومتوں اور عالمی شراکت داروں کی مسلسل سرمایہ کاری، مقامی لوگوں کے تعاون، مضبوط پروگراموں اور عوامی اعتماد کے باعث ایسے بچوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی آئی ہے جنہیں کوئی حفاظتی ٹیکہ میسر نہیں آیا۔

مثال کے طور پر، گاوی کی مدد لینے والے ممالک میں آج بچے بیماریوں کے خلاف پہلے سے کہیں زیدہ محفوظ ہیں۔ ان ممالک میں 'ڈبلیو ایچ او' کے تجویز کردہ حفاظتی ٹیکوں کے مکمل کورس کی اوسط کوریج 74 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

گاوی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ تاریخی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تمام متعلقہ فریق ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کریں تو غیرمعمولی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اب گاوی اپنے نئے پانچ سالہ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اس موقع پر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو گا کہ مالی وسائل کی کمی، غیریقینی جغرافیائی سیاسی حالات اور بڑھتی ہوئی وباؤں کے ہوتے ہوئے اس رفتار کو کیسے برقرار رکھا جائے۔

اس پیش رفت کو ممکن بنانے والی بنیادیں اب شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ گزشتہ دو برس کے دوران عالمگیر صحت عامہ کے لیے مالی امداد میں ہونے والی کٹوتیوں کے مکمل اثرات تاحال ان اعداد و شمار میں ظاہر نہیں ہوئے جبکہ ان اثرات کی نگرانی کرنے والے معلوماتی نظام خود کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔

دونوں اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسے معلوماتی نظام وسائل کی کمی کا شکار رہے تو ان بچوں کی نشاندہی اور ان تک رسائی مشکل ہو جائے گی جو حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہیں۔ نتیجتاً ایسی وبائیں اور اموات بڑھ سکتی ہیں جن سے بروقت ویکسینیشن کے ذریعے بچا جا سکتا تھا۔

© UNICEF/Giacomo Pirozzi کرغیزستان میں ایک بچے کو خسرہ ویکسین کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے۔

ویکسین تک مساوی رسائی کا منصوبہ

'ڈبلیو ایچ او' اور یونیسف، گاوی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر 'امیونائزیشن ایجنڈا 2030' کے اس عالمی ہدف تک پہنچنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ہر عمر کے ہر فرد تک ہر جگہ ویکسین پہنچائی جائے۔ تاہم دنیا اب بھی اس عالمی ہدف سے بہت دور ہے۔

اس صورت حال میں بہتری لانے کے لیے دونوں اداروں نے حکومتوں اور متعلقہ شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ:

  • جنگوں اور دیگر سنگین مسائل کا شکار علاقوں میں حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن ہو اور وہ ویکسین کا کورس مکمل کر سکے۔

  • صحت سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کا موثر توڑ کیا جائے اور ویکسین کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششوں کی بھرپور حمایت یقینی بنائی جائے۔
  • حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں اور شراکتوں، خصوصاً گاوی کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر مالی وسائل میں اضافہ کیا جائے اور انہیں برقرار رکھا جائے۔
  • معلوماتی اور بیماریوں کی نگرانی کے ایسے مضبوط نظام میں سرمایہ کاری کی جائے جو حفاظتی ٹیکوں کے موثر پروگراموں کی منصوبہ بندی اور انمیں بہتری لانے کے لیے رہنمائی فراہم کر سکیں۔