Live Updates

پٹرول کی قیمت میں حکومت کا حصہ کتنا لیوی اور ٹیکسز پر نئی بحث چھڑ گئی

ایک لیٹر پٹرول پر 95 سے 100 روپے تک حکومتی وصولیوں کا دعویٰ، مہنگائی کی وجہ صرف عالمی منڈی نہیں، تجزیہ

بدھ 15 جولائی 2026 22:40

پٹرول کی قیمت میں حکومت کا حصہ کتنا لیوی اور ٹیکسز پر نئی بحث چھڑ گئی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جولائی2026ء) ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کی وجہ صرف عالمی قیمتیں نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر حکومتی وصولیاں بھی ہیں، جن کا فی لیٹر قیمت میں نمایاں حصہ شامل ہے۔

ماہرین نے کہاکہ اس وقت ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 20 روپے سے زائد کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ اس طرح تقریباً 315 روپے فی لیٹر کے پٹرول میں 100 روپے سے زیادہ رقم مختلف لیویز اور ڈیوٹیز کی مد میں حکومت کو جاتی ہے، جس کے باعث صرف عالمی منڈی کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔

(جاری ہے)

ماہرین نے بتایا کہ رواں سال مارچ کے آغاز میں پٹرول کی قیمت 267 روپے فی لیٹر تھی، جو مسلسل اضافے کے بعد 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 281 روپے سے بڑھ کر 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 16 روپے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر چارجز کی مد میں مجموعی طور پر تقریباً 101 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 70 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 20 روپے کسٹمز ڈیوٹی سمیت مجموعی حکومتی وصولیاں تقریباً 95 روپے فی لیٹر بنتی ہیں۔

تجزیے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ پٹرولیم لیوی کا مقصد ابتدا میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے متبادل کے طور پر وفاقی حکومت کے لیے آمدن پیدا کرنا تھا، کیونکہ آئینی طور پر جی ایس ٹی کی وصولیاں صوبوں کے ساتھ تقسیم کی جاتی ہیں، جبکہ پٹرولیم لیوی وفاق کے پاس رہتی ہے۔تجزیے کے مطابق اگر صرف 18 فیصد جی ایس ٹی کے مساوی ٹیکس وصول کیا جائے تو پٹرولیم لیوی تقریباً 41 روپے فی لیٹر بنتی ہے، لیکن اس وقت اس سے کہیں زیادہ لیوی وصول کیے جانے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بحث بھی سامنے آئی ہے کہ آیا عوام پر اضافی بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ آئینی اور مالیاتی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات