Live Updates

امریکا نے ایران، روس، اٹلی اور نائیجریا سے تعلق رکھنے والے 4 افراد پر پابندیاں لگا دیں

پابندیوں کا تعلق ایران کے جوہری و میزائل ٹیکنالوجی پھیلاؤ کی سرگرمیوں کو روکنا ہے، امریکی محکمہ خزانہ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 15 جولائی 2026 22:53

امریکا نے ایران، روس، اٹلی اور نائیجریا سے تعلق رکھنے والے 4 افراد پر ..
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 15 جولائی 2026ء ) امریکی محکمہ خزانہ نے انسداد دہشتگردی کے تحت نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ میڈیا کے مطابق امریکا نے ایران ، روس ، اٹلی اور نائیجریاسے تعلق رکھنے والے 4 افراد پر پابندیاں عائد کردیں۔ پابندیوں کا تعلق ایران کے جوہری و میزائل پھیلاؤ سرگرمیوں سے ہے، ایرانی شہری بہروز نمازی اور اس سے منسلک نیٹ ورک پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے، روسی کمپنی ایوراتیک، ایرانی نیکا جیٹ کمپنی، اور نائیجریاکی وینگارڈٹیکنیکل سپلائی بھی پابندیوں میں شامل ہے۔

میکسیکو کے جواریز کارٹیل اور لاس ویاگراس کی پابندیوں سے متعلق نکات اپ ڈیٹ کئے گئے ہیں۔میکسیکن گروپس کو دہشتگرد تنظیموں سے متعلق اضافی درجہ بندی میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

پابندیوں کا مقصد دہشتگردی کی معاونت اور حساس ٹیکنالوجی کی ترسیل کو روکنا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پر دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امریکہ کے ساتھ نیا معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہی ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنا کر انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا کو اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی ہے جس میں تہران پر نیا معاہدہ کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا ہے، ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہداف کو آخری مرحلے میں نشانہ بنانے کے لیے دیکھا جائے گا، ایران پر امریکی حملے تب تک مسلسل جاری رہیں گے جب تک کہ میں خود اپنے منہ سے یہ نہ کہہ دوں کہ بس اب بہت ہو گیا۔

معاہدے کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وارننگ دی کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا اور وہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اگلے ہی ہفتے سے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا، ہم ایران کے تمام بجلی گھر اور تمام اہم ترین پل بمباری کرکے تباہ کر دیں گے، ہم اس وقت ایران کو بری طرح نشانہ بنا رہے ہیں، اگرچہ ایران میں ابھی کچھ جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے لیکن یہ صلاحیت اب بہت زیادہ نہیں بچی۔

" امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس لینے کا بڑا اعلان کیا تھا تاہم عالمی دباؤ اور سفارتی اثرات کے بعد انہوں نے محض 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس پر مکمل یوٹرن لے لیا، اس ضمن میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کا ٹول ٹیکس لینے کا خیال ہی اب ان کے لیے انتہائی ناپسندیدہ ہے اور وہ خود بھی نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز کا ٹول ٹیکس وصول کرے۔ امریکی صدر نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا ٹول دینے کے بجائے خلیجی ریاستیں اب براہِ راست امریکہ کے اندر بھاری سرمایہ کاری کریں گی، جس سے دونوں خطوں کے تجارتی اور معاشی تعلقات کو نیا رخ ملے گا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات