افریقی خطہ ساہل میں سلامتی کے خطرات کے دوران بات چیت خوش آئند، یو این

یو این جمعرات 16 جولائی 2026 01:45

افریقی خطہ ساہل میں سلامتی کے خطرات کے دوران بات چیت خوش آئند، یو این

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 جولائی 2026ء) مغربی افریقہ اور خطہ ساہل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے لیونارڈو سانتوز چیماؤ نے کہا ہے کہ خطے میں سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں تاہم علاقائی سطح پر بات چیت، تعاون اور جمہوریت کے فروغ میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مغربی افریقہ و ساہل کے لیے ادارے کے دفتر (یو این او ڈبلیو اے ایس) کی سرگرمیوں سے متعلق سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مختلف ممالک میں دہشت گرد تنظیموں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں سے لاحق خطرہ اب بھی انتہائی سنگین ہے۔

خصوصاً وسطی ساہل اور شمالی نائجیریا میں ایسے خطرات کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں جبکہ ان گروہوں کی کارروائیاں تیزی سے خلیج گنی سے ملحق ساحلی ممالک تک پھیل رہی ہیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ گروہ اپنی حکمت عملی مسلسل تبدیل کرتے ہوئے اب ڈرون، جدید مواصلاتی آلات اور کرپٹو کرنسی سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ان کی سرگرمیاں بین الاقوامی منظم جرائم سے جڑی ہوئی ہیں جن کا مقصد علاقوں اور معاشی وسائل پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنا، ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔

سنگین انسانی بحران

خصوصی نمائندے نے کہا کہ اس تشدد کی انسانی قیمت انتہائی بھاری ہے۔ فروری کے اختتام تک خطے میں تقریباً 68 لاکھ افراد اپنے ہی ممالک میں بے گھر ہو چکے تھے جبکہ 12 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لوگ مہاجر یا پناہ کے متلاشی تھے۔

ان میں تقریباً دو لاکھ 20 ہزار افراد بینن، آئیوری کوست، گھانا اور ٹوگو میں مقیم ہیں۔

دہشت گردی کے علاوہ منشیات کی سمگلنگ، پیداوار اور استعمال میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں انسانی امداد کی رسائی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ مالی وسائل کی کمی کے نتیجے میں ضروری امدادی سرگرمیاں محدود ہوتی جا رہی ہیں۔

علاقائی تعاون میں پیش رفت

خصوصی نمائندے نے مغربی افریقہ اور ساہل میں علاقائی سطح پر مکالمے اور تعاون کے عمل میں نئی پیش رفت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری میں گھانا کے دارالحکومت اکرا میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورتی کانفرنس میں علاقائی رہنماؤں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے باہمی اعتماد کی بحالی کے ساتھ سلامتی کے ایک نئے علاقائی نظام کے قیام پر اتفاق کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بے شمار مشکلات کے باوجود خطے میں جمہوریت بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ بینن، کابو ویڈ، آئیوری کوست اور گنی میں پرامن انتخابات اور کئی ممالک، خصوصاً وسطی ساہل میں سیاسی اور شہری آزادیوں سے متعلق نئے قانونی ضابطے، اصلاحات اور جوابدہ طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے جاری اقدامات اس کا واضح ثبوت ہیں۔

امن پر سرمایہ کاری

خصوصی نمائندے زور دیا کہ محض عسکری یا سلامتی سے متعلق اقدامات سے خطے کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کا موثر حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب امن کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی ستونوں پر سرمایہ کاری کی جائے۔

انہوں نے اس حوالے سے اپنے دفتر کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں آبی سفارتکاری پر ایک علاقائی مکالمہ منعقد کیا گیا جس میں خطے کے بڑے آبی ذخائر سے متعلق اداروں، اقوام متحدہ کے نمائندوں اور علاقائی تنظیموں نے شرکت کی۔

معاشی ترقی اور مشکلات

انہوں نے بتایا کہ رواں سال خطے کی معیشت میں اوسطاً پانچ فیصد نمو متوقع ہے، تاہم داخلی و خارجی قرضوں کا بوجھ، مہنگائی، قومی سلامتی پر بڑھتے اخراجات، محدود مالی وسائل اور عالمی معاشی دھچکے اس ترقی کے سماجی فوائد کو محدود کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے ساتھ غربت، کمزوری اور پسماندگی کا خاتمہ بھی خطے میں عالمی برادری کا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے۔