روٹی، نان اور آٹا مہنگا‘ لاہور میں قیمتوں میں اضافہ‘ کراچی میں آٹا تنازع پر ہڑتال

لاہور میں نان بائیوں کا روٹی 9 روپے، نان کی قیمت میں 10 روپے اضافے کا اعلان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 16 جولائی 2026 16:57

روٹی، نان اور آٹا مہنگا‘ لاہور میں قیمتوں میں اضافہ‘ کراچی میں آٹا ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 جولائی ۔2026 ) ملک کے مختلف شہروں میں آٹے، روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے اور سرکاری نرخوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے لاہور میں نان بائیوں نے روٹی اور نان مہنگے کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کراچی میں آٹا فروشوں کی گرفتاریوں اور جرمانوں کے خلاف ہول سیل تاجروں نے ہڑتال کر دی، جس سے اجناس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے.

دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے فوری گندم درآمد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سال کے آخر تک آٹے کا بحران پیدا ہو سکتا ہے لاہور میں نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں 9 روپے اور نان کی قیمت میں 10 روپے اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد روٹی 25 روپے جبکہ نان 35 روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے نان بائیوں کا موقف ہے کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2400 روپے تک پہنچ چکا ہے، اس لیے پرانی قیمتوں پر روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں.

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے نئی قیمتیں تسلیم نہ کیں تو تندور بند کر دیے جائیں گے ڈی جی فوڈ پنجاب کا کہنا ہے کہ فلور ملز کو 40 کلو گندم 3800 روپے میں فراہم کی جا رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس قیمت میں مزید کمی لانے کی کوشش کی جائے گی. کراچی میں چکی کا آٹا 160 سے 170 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری نرخ 125 روپے فی کلو ہیں شہر میں 20 روپے والی روٹی بھی 25 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے پشاور میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 300 روپے اضافہ ہوا ہے اور قیمت 3000 روپے تک پہنچ گئی ہے کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ تندوروں پر سنگل روٹی 40 اور ڈبل روٹی 80 روپے میں دستیاب ہے.

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے فوری گندم درآمد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو دسمبر تک آٹے کی قلت پیدا ہو سکتی ہے گروپ لیڈر عاصم رضا کے مطابق پنجاب میں گندم کی قیمت 4300 سے 4500 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث آٹے اور روٹی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں. انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری گندم مارکیٹ میں جاری کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ذخیرہ اندوزی کے باعث پیدا ہونے والی مصنوعی قلت میں کمی آئے گی، تاہم صرف پنجاب کے ذخائر جاری کرنا آئندہ مہینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا.

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے، ورنہ سال کے آخر تک آٹے کا بحران اور قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

کراچی میں آٹا فروشوں کی گرفتاریوں اور جرمانوں کے خلاف ہول سیل گراسرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی، جس کے باعث جوڑیا بازار، لی مارکیٹ، ڈانڈیا بازار، نانک واڑہ بازار، لانڈھی، ملیر، کورنگی اور لیاقت آباد کی متعدد ہول سیل مارکیٹیں بند رہیں.

ہڑتال کے باعث کراچی سے ملک بھر میں اجناس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی، جبکہ تھوک بازاروں کی بندش سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے سیکڑوں مزدور بھی بے روزگار رہے کمشنر کراچی نے آٹے کی سرکاری قیمت 122 روپے فی کلو مقرر کی تھی، تاہم فلور ملز سے مذاکرات کے بعد ایکس مل قیمت 125 روپے فی کلو طے کی گئی. ہول سیل گراسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرف ابراہیم نے کہا کہ دکانداروں کی گرفتاریاں، بھاری جرمانے اور دکانیں سیل کرنا ناقابل قبول ہے ان کے مطابق دکاندار 125 روپے فی کلو خرید کر 122 روپے میں آٹا فروخت نہیں کر سکتے، جبکہ کئی دکانداروں کو تحریری چالان دینے کے بجائے صرف ایزی پیسہ نمبر فراہم کیا جا رہا ہے اور لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں.

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہنگا آٹا فروخت کرنے والی فلور ملز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی، اور مطالبہ کیا کہ حکومت فلور ملز کے خلاف بھی فوری کارروائی کرے تاجر راہنماﺅں کے مطابق ہڑتال ایک روز تک محدود رہے گی، تاہم مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا.