اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 23 جولائی 2026ء) خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہ بات امریکی انٹیلیجنس سرگرمیوں سے واقف چار ذرائع نے بتائی۔ اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ان ذرائع کے مطابق امریکی انٹیلیجنس حکام ابھی تک اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے کہ سی آئی اے کی تنصیبات پر حملوں میں روس کا کوئی براہ راست کردار تھا یا نہیں۔
تاہم انہوں نے ان حملوں کے مؤثر ہونے، بظاہر انتہائی درست ٹارگٹنگ، اور ایران کے لیے روس کی وسیع تکنیکی معاونت کو ممکنہ شواہد کے طور پر پیش کیا۔
سی آئی اے کے خفیہ آپریشنز کے سابق افسر ڈینیئل ہوفمین کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کی قریبی اسٹریٹیجک شراکت داری کو دیکھتے ہوئے اگر ماسکو نے تہران کو سی آئی اے کی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں مدد فراہم کی ہو، تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہو گی۔
(جاری ہے)
ڈینیئل ہوفمین کے مطابق، ''روس اور ایران دونوں اس بات میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ اپنے اپنے اثر و رسوخ کے علاقوں میں امریکہ کے اثر کو کم سے کم یا مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔‘‘
روئٹرز اور دیگر ذرائع ابلاغ پہلے بھی یہ رپورٹ کر چکے ہیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ روس نے عمومی طور پر خلیجی خطے میں امریکی اہداف پر ایران کے حملوں کے لیے اہداف سے متعلق معلومات اور دیگر معاونت فراہم کی تھیں۔
تاہم سی آئی اے کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں روس کے ممکنہ کردار سے متعلق امریکی انٹیلیجنس اداروں کی ابھی تک جاری تحقیقات کے بارے میں اس سے قبل کوئی معلومات منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔روئٹرز اور دیگر میڈیا اداروں کی رپورٹوں کے مطابق مارچ میں کم از کم دو سی آئی اے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سے ایک سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے میں قائم سی آئی اے کا اسٹیشن تھا، جبکہ ایسا دوسرا مرکز مشرقی عراق میں واقع تھا۔
بعض ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مزید سی آئی اے تنصیبات بھی حملوں کا نشانہ بنیں، تاہم انہوں نے ان کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہ کیں۔’روس نے سی آئی اے کے مراکز کو نشانہ بنانے میں مدد کی‘
خلیجی خطے میں تعینات دو مغربی اہلکار، جنہیں انٹیلیجنس رپورٹوں سے متعلق بریفنگ دی گئی تھی، نے بتایا کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے حملے میں ایران کے شاہد ڈرونز کے ایسے ورژن استعمال کیے گئے، جنہیں روسی معاونت سے جدید تر بنایا گیا تھا۔
اگرچہ ایران اور روس کے قریبی تعلقات کے باعث تہران کے لیے ماسکو کی عسکری اور تکنیکی معاونت کوئی نئی بات نہیں، تاہم سی آئی اے جیسے حساس امریکی ادارے کے مراکز کو براہ راست نشانہ بنانے میں ممکنہ تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روس واشنگٹن کی انٹیلیجنس سرگرمیوں میں مزید خلل ڈالنے کے لیے پہلے سے زیادہ جارحانہ کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
امریکی
حکام کے مطابق روس کی جانب سے ایران کو حساس معلومات فراہم کیے جانے کے خدشات رواں ہفتے اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے، جب ایران نے اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔اس معاملے پر تبصرے کی ایک درخواست پر وائٹ ہاؤس نے سوالات سی آئی اے کو بھیج دیے، تاہم سی آئی اے نے جواباﹰ کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
اقوام متحدہ
میں ایران کے مستقل مشن، روسی وزارت دفاع اور سعودی حکومت نے بھی روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہ دیا۔روسی معاونت سے متعلق نئے انکشافات
ایک دوسرے اور مختلف ذریعے کے مطابق روس نے تہران کو شاہد-136 ڈرونز کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے 'کومیٹا-ایم‘سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم فراہم کیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام ایران کے تیار کردہ نیوی گیشن سسٹم کے مقابلے میں کہیں زیادہ درست اور الیکٹرانک جامنگ سے بہتر طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔امریکی
جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے پہلی بار مارچ میں رپورٹ کیا تھا کہ روس نے ایران کو کومیٹا-ایم نظام فراہم کیا ہے، تاہم کریملن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'جھوٹی خبر‘ قرار دیا تھا۔ذرائع نے ایرانی ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والی سی آئی اے تنصیبات کی درست تعداد یا مقامات ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایک ذریعے نے بتایا کہ متاثرہ مراکز کی تعداد ''ایک سے زیادہ مگر ایک درجن سے کم‘‘ تھی، جبکہ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق متعدد سی آئی اے تنصیبات ان حملوں کی زد میں آئیں۔
ادارت: مقبول ملک