- ایران کا اردن اور کویت میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کا دعویٰ
ایران کا اردن اور کویت میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کا دعویٰ
امریکی فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی فضائی حملے کیے، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ’’ایران کی علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا‘‘ ہے۔
ایران
کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی میزائلوں نے بدھ کی رات مغربی ایران کے شہروں اہواز، رامشیر اور اندیمشک کے قریب متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔(جاری ہے)
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک بار پھر خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ کرے گا، تو امریکہ ایسے ہر حملے کے جواب میں ایران میں ایک پل یا بجلی گھر تباہ کر دے گا۔دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کی دفاعی حکمت عملی اختیار کرے گا۔
بین الاقوامی قانون کے تحت شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے عمومی طور پر ممنوع ہیں، علاوہ اس پہلو کے کہ انہیں براہ راست فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔
امریکی
فضائی حملے ایسے وقت پر جاری ہیں جب سفارتی کوششوں میں کسی نمایاں پیش رفت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ایران کا دعویٰ
ایران
کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوج کے متعدد عسکری اثاثوں پر حملے کر کے انہیں تباہ کر دیا۔سرکاری ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے پاسداران انقلاب کے ایک بیان کے مطابق ان حملوں میں امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، سی-رام ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران
کی فوج نے ایک الگ بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق پاسداران انقلاب نے علی السالم ایئر بیس، کیمپ اُدیری اور ایک مواصلاتی ٹاور پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا، جبکہ ایرانی فوج نے کیمپ دوحہ، علی السالم ایئر بیس اور کیمپ عارف جان کو اپنے حملوں کا ہدف قرار دیا۔
سفارتی کوششیں تعطل کا شکار
ایران
اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔تازہ امریکی فضائی حملوں سے قبل ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جو اس تنازعے میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد سفارتی عمل کو دوبارہ متحرک کرنا تھا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی نئے معاہدے یا فارمولے پر اتفاق ہو سکے گا یا نہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ملکی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا، ’’سفارت کاری ختم نہیں ہوئی‘‘ اور فریقین کے درمیان اب بھی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ادھر فلپائن میں منعقدہ ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نے کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، ’’لیکن اس وقت ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا نظر نہیں آ رہا، اس لیے ہماری توجہ فی الحال بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ پر مرکوز ہے۔
‘‘ایک عرب سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ خلیجی ممالک جنگ میں مسلسل اضافے اور حالیہ دھمکیوں کے باعث کسی سفارتی حل کے امکانات کے حوالے سے پہلے سے زیادہ مایوس ہیں۔
اس سفارت کار کے مطابق پاکستان اور ترکی سمیت خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں کسی مثبت پیش رفت کے امکانات نہایت محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
ادارت: مقبول ملک