Live Updates

ہاری کانفرنس میں سندھ کے کسانوں کی زبوں حالی پر تشویش، سیرا 2013 پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ

ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے باوجود ہاری غربت، بے روزگاری اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مقررین پانی کی قلت، فصلوں کی کم قیمتیں، ڈیزل، بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاشتکاری کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے، کانفرنس سے خطاب

اتوار 26 جولائی 2026 19:55

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جولائی2026ء) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان سے وابستہ سندھ ایگریکلچرل جنرل ورکرز یونین (رجسٹرڈ)کے زیر اہتمام ممتاز مرزا آڈیٹوریم، حیدرآباد میں ایک شاندار ہاری کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سندھ بھر سے ہاری رہنمائوں، مزارعین، خواتین زرعی مزدوروں اور کسان نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس کی صدارت سبھاگی بھیل نے کی جبکہ تقریب کا آغاز شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سے کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ سندھ کے ہاری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ پانی کی قلت، فصلوں کی کم قیمتیں، ڈیزل، بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاشتکاری کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔ ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے باوجود ہاری غربت، بے روزگاری اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

کانفرنس میں کہا گیا کہ حکومتی زرعی مراعات حقیقی ہاریوں تک پہنچنے کے بجائے بااثر جاگیرداروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں کیونکہ زرعی مزدوروں کی مثر رجسٹریشن کا نظام موجود نہیں۔ مقررین نے سندھ کے تاریخی آبی حقوق کے تحفظ، دریائے سندھ پر نئے نہری منصوبوں کی مخالفت اور پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا۔شرکا نے موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور دیگر قدرتی آفات سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ ہاریوں اور خواتین زرعی مزدوروں کے لیے جامع ریلیف، بحالی اور معاوضہ پروگرام کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس نے بااثر جاگیرداروں کی جانب سے ہاریوں کے اغوا، تشدد، جبری بے دخلی، بیگار اور خواتین زرعی مزدوروں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کی اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔مقررین نے کہا کہ زرعی بحران کا مستقل حل زرعی اصلاحات میں ہے۔ بے زمین ہاریوں میں سرکاری و فاضل اراضی کی تقسیم، جاگیردارانہ نظام کے خاتمے، مزارعین کو زمین اور رہائش کے تحفظ، اور حقیقی ہاریوں کو زمین پر مستقل حقوق دیے جائیں۔

کانفرنس نے یاد دلایا کہ سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013نے زرعی مزدوروں کو ٹریڈ یونین بنانے کا قانونی حق دیا، مگر تیرہ برس گزرنے کے باوجود اس قانون پر مثر عملدرآمد نہیں ہوا۔ زرعی مزدور آج بھی سوشل سیکیورٹی، ای او بی آئی، ڈیتھ گرانٹ، میرج گرانٹ، تعلیمی وظائف اور دیگر قانونی مراعات سے محروم ہیں۔کانفرنس نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ SIRA 2013پر فوری عملدرآمد کیا جائے، تمام ہاریوں اور خواتین زرعی مزدوروں کا سروے اور رجسٹریشن کی جائے، ہر ضلع میں ہاری عدالتیں قائم کی جائیں، اسمبلیوں میں کسانوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص ہوں، ہاری کارڈ صرف حقیقی زرعی مزدوروں کو جاری کیا جائے، سندھ کے آبی حقوق کا تحفظ کیا جائے، پیریا کماری سمیت تمام اغوا شدہ بچیوں کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، زرعی اصلاحات نافذ کی جائیں اور بے زمین ہاریوں کو زمین فراہم کی جائے۔

کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ SIRA 2013کے مکمل نفاذ، زمین، پانی، سماجی تحفظ، جمہوری حقوق، زرعی انصاف اور موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد مزید تیز کی جائے گی۔کانفرنس سے سبھاگی بھیل، لال بخش لالان، ناصر منصور، گل رحمان، فیض کیریو، سجاد ظہیر سولنگی، فاطمہ لغاری، زہرہ خان، موتی رام، بھگچند باگری، کامریڈ ربائل، را نسیم اور دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات