مصطفیٰ نواز کھوکھر کی ’ہارڈ سٹیٹ‘ نظریے پر شدید تنقید، سنگین خطرات سے خبردار کردیا

یہ ”ہارڈ سٹیٹ“ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے، ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا، عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں؛ سابق سینیٹر کا بیان

Sajid Ali ساجد علی منگل 28 جولائی 2026 12:38

مصطفیٰ نواز کھوکھر کی ’ہارڈ سٹیٹ‘ نظریے پر شدید تنقید، سنگین خطرات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جولائی 2026ء) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماء سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے "ہارڈ اسٹیٹ" کے نظریئے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ 'ہارڈ سٹیٹ' کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں، وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے، ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا ہیں، یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔

سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر، بلوچستان، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں، آزادیاں چھین لی گئی ہیں، الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے، یہ 'فیلڈ سٹیٹ' کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے، جو لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن ہو۔

(جاری ہے)

 
مصطفیٰ نواز کھوکھر اپنے اس بیان میں مشورہ دیتے ہوئے مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا، عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ 'Implosion' سے اب کچھ زیادہ دور نہیں۔