Live Updates

جرمن میڈیا کی رپورٹسں من گھڑت ہیں، امریکہ۔ایران تنازع پر کسی پاکستانی عہدیدار نے کوئی بیان نہیں دیا، انٹیلی جنس ذرائع

بدھ 29 جولائی 2026 00:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جولائی2026ء) ایک سینئر پاکستانی انٹیلی جنس عہدیدار نے جرمن جریدے " ایف اے زیڈ "(FAZ) اور خبر رساں ادارے ڈی پی اے( DPA) کی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں نامعلوم پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے خلیج کی صورتحال سے متعلق جھوٹے دعوے منسوب کیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کی ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے پاکستان ٹی وی سے گفتگو میں واضح کیا کہ خلیجی صورتحال کے حوالے سے نہ کسی پاکستانی انٹیلی جنس عہدیدار اور نہ ہی کسی حکومتی عہدیدار نے کسی بھی غیر ملکی میڈیا ادارے سے بات کی ہے۔

جرمن میڈیا اداروں ایف اے زیڈ اور ڈی پی اے نے اسلام آباد میں موجود انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی زمینی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

(جاری ہے)

سینئرعہدیدار نے غیر ملکی میڈیا کی جانب سے منسوب کئے گئے ان بیانات کو من گھڑت، خیالی، خود ساختہ اور صحافتی اصولوں کے منافی قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ خلیجی صورتحال کے بارے میں نہ کسی پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار اور نہ ہی کسی سرکاری ذریعے نے کسی غیر ملکی میڈیا سے بات کی ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ ہم نے کسی سے گفتگو نہیں کی کیونکہ پاکستان اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور ہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے۔ سینئر عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے قیام اور سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اسلام آباد اور سوئٹزرلینڈ کے شہربرگن اسٹاک میں ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیہ ممکن بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کبھی بھی اس تنازع کا فریق نہیں رہا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل قربانیاں دیتا رہا ہے اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات