نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جولائی2026ء)
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق سہ ماہی مباحثے کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی
قرارداد 2803 پر مکمل عمل
درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے تباہ حال
غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، مستقل
جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ میں
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ2025 کی
جنگ بندی اور
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کا
غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ انسانی مصائب کو کم کرنے ، فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتماد راستہ ہموار کرنے کا اہم موقع فراہم کرتے ہیں تاہم ان اقدامات پر مکمل عمل
درآمد میں تاخیر فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہاکہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی
قرارداد 2803 میں درج وعدوں پر عمل
درآمد کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب اقدام نہ کیا گیا تو منصفانہ اور پائیدار امن کے امکانات کو ناقابلِ تلافی
نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔منگل کے روز ہونے والے اس اجلاس کا انعقاد جمہوریہ کانگو نے کیا، جو جولائی کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کا صدر ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے،
امریکہ اور
ایران کے درمیان
جنگ جاری ہے اور
اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے
غزہ میں اکتوبر کی نازک
جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس
جنگ بندی نے حماس کے ساتھ دو سالہ
جنگ کا خاتمہ کیا تھا، جس میں ہزاروں فلسطینی مرد، خواتین اور بچے
جاں بحق ہوئے تھے۔اقوامِ متحدہ میں
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے
اسرائیل کی جانب سے سیٹلمنٹس کی مسلسل توسیع، نئی آبادکاری چوکیوں کے قیام اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پرگہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی اور جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کر رہے ہیں۔اس تناظر میں سفیر نے نام نہاد کرمزن تھریڈ منصوبے کا حوالہ دیا، جو تقریباً 500 کلومیٹر طویل دیواروں اور فوجی سڑکوں کے ایک مجوزہ نیٹ ورک پر مشتمل ہے، جو وادیٔ اردن کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی آبادیوں کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنے اور وادیٔ اردن کو مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے باقی حصے سے کاٹنے کی یہ کوششیں مستقبل کی فلسطینی ریاست کی عملداری، جغرافیائی تسلسل اور پائیداری کو شدید
نقصان پہنچاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ
جنگ بندی اور امن منصوبے کے بعض حصوں پر عمل
درآمد کے نتیجے میں
غزہ میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے لیکن اب بھی 59 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ
جنگ بندی کے بعد بھی 1,100 سے زائد فلسطینی
جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ صورتحال اس بات پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے کہ آیا امن منصوبے پر مکمل اور دیانت داری سے عمل
درآمد کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایاکہ تقریباً 20 لاکھ افراد اب بھی
غزہ کے صرف 30 فیصد رقبے تک محدود ہیں، جہاں وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے ان اطلاعات کا بھی ذکر کیا کہ
غزہ میں ایک وسیع رکاوٹ تعمیر کی جا رہی ہے، جو اسرائیلی قبضے اور علاقے کے تقریباً 70 فیصد حصے پر اس کے کنٹرول کو مزید مضبوط بناتی ہے۔اس سلسلے میں سفیر عاصم افتخار نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی آبادکاری (سیٹلمنٹ) کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے (الحاق)، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی یا ان علاقوں کی آبادیاتی اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جائے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں بھی واضح کیا گیا ہے۔
انہوں نے فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جیسا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے حالیہ خط میں بھی زور دیا تھا۔ انہوں نے شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار عناصر کا احتساب کرنے، نیز فلسطینی محصولات کی روکی گئی رقوم کو فوری اور غیر مشروط طور پر فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ ضروری عوامی خدمات کی فراہمی جاری رکھ سکے۔
انہوں نے کہاکہ منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد قابلِ اعتماد راستہ ایک آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔وسیع تر علاقائی تناظر میں انہوں نے کہا کہ
پاکستان حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ یہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ
پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہےاور تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں فوری کمی کے لیے عملی اقدامات کریں اور
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔انہوں نے کہا کہ
پاکستان اپنی جانب سے
مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
لبنان کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کی
قرارداد 1701 پر مکمل عمل
درآمد وہاں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان لبنان میں
جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے
امریکہ کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے
۔یمن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ
پاکستان ایک ایسے سیاسی عمل کی حمایت کرتا ہے جس کی قیادت خود یمنی عوام کریں اور جس کی ملکیت بھی
یمن ہی کے پاس ہو، تاکہ ملک میں جامع اور پائیدار امن قائم ہو سکے۔
انہوں نے
سعودی عرب پر حملوں اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے تمام حملوں کی بھی مذمت کی، کیونکہ ایسے اقدامات عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ
پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں مملکتِ
سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر گہری تشویش رکھتا ہے اور برادر مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوامِ متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ
کار اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوامِ متحدہ کے رہائشی و انسانی ہمدردی کے رابطہ
کار رامیز الاکباروف نے کہا کہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور اگر حالات کا رخ بدلنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشیدگی میں مزید اضافہ تقریباً یقینی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ
غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی
قرارداد 2803 (2025) پر مکمل طور پر عمل
درآمد کیا جانا چاہیے
۔غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رامیز الاکباروف نے کہا کہ اہم علاقوں سے سالڈویسٹ کی صفائی اور صفائی ستھرائی سے متعلق آلات و سامان کی
غزہ میں ترسیل کے لیے کی جانے والی پیش رفت، وہاں کی بے پناہ ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ
غزہ کو درپیش بڑے مسائل میں مسلسل بے دخلی، انتہائی گنجان رہائشی حالات، وسیع پیمانے پر
تباہی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً روزانہ ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ انسانی وقار کو کسی شرط سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ابتدائی بحالی کے مرحلے کی جانب منتقلی کو تیز کیا جائے، جس کے لیے لوگوں کے روزگار کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو، متاثرین کو باوقار رہائش کی فراہمی اور فلسطینی اداروں کی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔