سکھر میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی اجلاس، شرکاء کا سگریٹ چھوڑنے کا عہد

آلٹرنیٹو ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور ناری فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیشن، تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں اور قانونی پابندیوں پر آگاہی دی گئی

ہفتہ 1 اگست 2026 22:05

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2026ء) آلٹرنیٹو ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور ناری فاؤنڈیشن سکھر کے زیر اہتمام "تمباکو سے پاک پاکستان" پروگرام کے تحت تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہاریوں، مزدوروں، فیکٹری ورکرز اور مقامی افراد نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناری فاؤنڈیشن کے وحید مہر نے کہا کہ پروگرام کا مقصد کمیونٹی میں تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور لوگوں کو اس عادت سے نجات دلانے کی ترغیب دینا ہے۔

اس موقع پر ایک شرکاء کامران نے اپنی ذاتی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ طویل عرصہ سگریٹ نوشی کے باعث انہیں صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے پر انہوں نے سگریٹ ترک کر دیا۔

(جاری ہے)

آصف کٹپر نے کہا کہ سگریٹ نوشی چھوڑنے سے پھیپھڑوں کے کینسر، فالج، دل کی بیماریوں اور دیگر امراض کے خطرات میں نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ زندگی کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

ناری فاؤنڈیشن کے امجد انور مہر نے کہا کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی تمباکو نوشی سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آرڈیننس 2002 کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنا ممنوع ہے اور تعلیمی اداروں کے 50 میٹر کے دائرے میں سگریٹ کی فروخت پر پابندی ہے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کرنے کا عہد کیا۔