ٹی ڈی اے پی کی کسانوں کو نئے چینی مکئی پروٹوکول پر تربیت،5 اضلاع میں سیمینارز کا انعقاد کیا گیا

منگل 4 اگست 2026 16:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اگست2026ء) پاکستان کی زرعی برآمدات، خصوصا چین کو مکئی کی برآمدات بڑھانے کے مقصد سے ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی)نے نئے چینی مکئی درآمدی پروٹوکول پر عمل درآمد، تل کی بہتر پیداوار، جدید زرعی طریقوں اور معیار کی پابندی سے متعلق پانچ روزہ سیمیناروں کا سلسلہ کامیابی سے مکمل کر لیا۔

سیمینار اوکاڑہ، ساہیوال، خانیوال، وہاڑی اور لیہ میں منعقد ہوئے، جن میں کسانوں، برآمد کنندگان، زرعی ماہرین اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد پاکستان کی دو اہم زرعی اجناس، مکئی اور تل، کی برآمدی استعداد کو بہتر بنانا تھا۔گوادر پرو کے مطابق یہ پروگرام ٹی ڈی اے پی نے محکمہ زراعت پنجاب کے پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز ونگ،ڈائریکٹوریٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، میز اینڈ ملیٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب)کے تعاون سے منعقد کیا۔

(جاری ہے)

گوادر پرو کے مطابق سیمیناروں کا مرکزی موضوع پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے نئے مکئی برآمدی پروٹوکول پر عمل درآمد تھا، جس کے تحت چین نے مکئی کی درآمد کے لیے مزید سخت نباتاتی صحت (فائٹو سینیٹری)اور معیار سے متعلق تقاضے متعارف کرائے ہیں تاکہ چینی منڈی کو محفوظ اور پائیدار بنیادوں پر مکئی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔گوادر پرو کے مطابق ماہرین نے شرکا کو چین کے درآمدی معیارات پر عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی، جس میں افلاٹاکسن پر موثر کنٹرول، کھپرا بیٹل کی نگرانی اور تدارک، نیز فصل کی کٹائی سے قبل اور بعد کے فائٹو سینیٹری اقدامات پر خصوصی زور دیا گیا۔

حکام کے مطابق ان اقدامات پر موثر عمل درآمد سے پاکستان کو چین کی وسیع زرعی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی جبکہ ناقص معیار یا کیڑوں سے متعلق خدشات کے باعث برآمدی کھیپوں کی مسترد ہونے کے امکانات بھی کم ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق سیمیناروں میں گڈ ایگریکلچرل پریکٹسز (جی اے پی)اپنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور عالمی منڈی میں مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔

شرکا کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی، زیادہ پیداوار دینے والی جدید تل کی اقسام کی کاشت کے حوالے سے تکنیکی تربیت بھی فراہم کی گئی، جس سے پیداوار اور معیار دونوں میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔رپورٹ کے مطابق ماہرین نے خام زرعی اجناس برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن پر زور دیتے ہوئے کسانوں اور برآمد کنندگان کو پراسیسنگ، گریڈنگ، پیکیجنگ اور برانڈنگ بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ برآمدی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

پروگرام کا ایک اہم حصہ ضلعی زرعی توسیعی عملے کی استعداد کار بڑھانے پر بھی مشتمل تھا، جس کے تحت فیلڈ افسران کو جدید تکنیکی معلومات فراہم کی گئیں تاکہ وہ کسانوں کو برآمدات پر مبنی زرعی پیداوار اور بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے حوالے سے مثر رہنمائی فراہم کر سکیں۔رپورٹ کے مطابق حکام نے کہا کہ زرعی توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے سے فارم لیول پر بہترین زرعی طریقوں کو فروغ ملے گا، جس سے پاکستانی کسان بین الاقوامی منڈیوں، خصوصا چین، کے بڑھتے ہوئے معیار اور تقاضوں پر پورا اترنے کے قابل ہو سکیں گے۔