نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا موجودہ حکومت کو ختم کرکے قومی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ

ملکی مسائل کا حل نئے صوبوں کے قیام سے ممکن ہے، تمام سیاسی جماعتوں میں مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 4 اگست 2026 19:35

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا موجودہ حکومت کو ختم کرکے قومی حکومت تشکیل دینے ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 04 اگست 2026ء ) نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے موجودہ حکومت کو ختم کرکے قومی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں فواد چوہدری، عمران اسماعیل، محمود مولوی اور محمد علی درانی نے نیوز کانفرنس کی۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے موجودہ حکومت کو ختم کیا جائے اور قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل نئے صوبوں کے قیام سے ممکن ہے، موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں میں مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور وسیع تر قومی مشاورت میں ان کی شمولیت عمل کا ایک لازمی حصہ ہے۔

(جاری ہے)

ایکس کے مطابق شیرافضل مروت نے اسمبلی احاطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سیاست ایسے ہے جیسے اندھیرے میں حلوہ بانٹا جا رہا ہو، جس کے ہاتھ جتنا آیا وہ لے گیا۔ کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر معاملات میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ یہ کوئی حق نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی تقسیم ہے۔ انہوں نے نظام کو بہتر کرنے کے بجائے پہلے اسے نقصان پہنچایا، جو درست طریقہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم آخر چلا کب ہے؟ سسٹم کا تو حلیہ ہی آپ لوگوں نے بگاڑ دیا ہے۔ جمہوریت، سول بالادستی اور عدالتی انصاف خواب بن چکے ہیں۔ دہشت گردی اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، معیشت قرضوں تلے دبی ہوئی ہے۔ عمران خان، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور دیگر سیاسی رہنما و کارکن جیلوں میں ہیں۔ شیر افضل خان مروت نے کہا کہ سسٹم آخر چلا کب ہے؟ ملک میں جمہوریت، سول بالادستی اور عدالتی انصاف خواب بن چکے ہیں۔

دہشت گردی، مہنگائی اور معاشی بحران بڑھ رہا ہے، جبکہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، اور دیگر سیاسی رہنما و کارکن جیلوں میں ہیں۔ عوام کو امید تھی کہ عدلیہ اور الیکشن ٹریبونلز انصاف فراہم کریں گے، مگر میرے مطابق انصاف کا نظام بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔