7 ستمبر کی ختم نبوت کانفرنس اتحادِ امت کا عملی نمونہ ہوگی‘مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کانفرنس کا فقید المثال اجتماع امت مسلمہ کے قلوب و اذہان میں ختم نبوت کی شمع روشن کریگا

اتوار 9 اگست 2026 11:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2026ء) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ محمد اشرف گجر کی زیرِ صدارت جامعہ محمدیہ قاسمیہ، والٹن روڈ لاہور میں 7 ستمبر کو منعقد ہونے والی ختمِ نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں جید علما ء کرام، دینی شخصیات اور اہلِ علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

سیمینار کے مہمانِ خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 ستمبر کی ختمِ نبوت کانفرنس اتحادِ امت کا عملی نمونہ ثابت ہوگی۔ کانفرنس میں ہونے والا فقیدالمثال اجتماع امتِ مسلمہ کے قلوب و اذہان میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو مزید اجاگر کرے گا اور نسلِ نو کو اس عظیم اسلامی عقیدے سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

(جاری ہے)

7 ستمبر مسلمانوں کے لیے یومِ فتحِ مبین اور عاشقانِ رسول ﷺ کے لیے ایک عظیم الشان کامیابی کا تاریخی دن ہے۔ یہ وہ تاریخ ساز دن ہے جب علما کرام، عوام الناس اور تحریک ختمِ نبوت کے اکابرین کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے اساسی، بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے۔

اس عقیدے کا تحفظ ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے، جبکہ ختم نبوت کانفرنسوں اور سیمینارز کا بنیادی مقصد عوام بالخصوص نوجوان نسل میں عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کرنا اور اس حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر کی کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے علما کرام، دینی جماعتوں، کارکنان اور عوام الناس کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں رابطہ مہم، اجتماعات اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کانفرنس میں شرکت کر سکیں۔سیمینار کے شرکا نے 7 ستمبر کی ختم نبوت کانفرنس کو بھرپور انداز میں کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں علما ئے کرام، دینی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا مظہر ہوگی کہ امتِ مسلمہ اپنے بنیادی عقائد کے تحفظ اور دینی تشخص کے حوالے سے متحد و یکسو ہے۔