r7 ستمبر کی ختم نبوت کانفرنس اتحادِ امت کا عملی نمونہ ہوگی

ٴفقیدالمثال اجتماع عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کریگا، مولانا اللہ وسایا 7 ستمبر مسلمانوں کیلئے تاریخی دن، کانفرنس کی کامیابی کیلئے بھرپور رابطہ مہم چلائی جائے، مقررین

اتوار 9 اگست 2026 19:10

fلاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 اگست2026ء) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ محمد اشرف گجر کی زیرصدارت جامعہ محمدیہ قاسمیہ والٹن روڈ میں 7 ستمبر کو منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے سیمینار ہوا، جس میں علما کرام، دینی شخصیات اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ 7 ستمبر کی ختم نبوت کانفرنس اتحادِ امت کا عملی نمونہ ثابت ہوگی۔

کانفرنس میں ہونے والا فقیدالمثال اجتماع عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اجاگر کرنے اور نسل نو کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر مسلمانوں کیلئے یوم فتح مبین اور عاشقان رسول ﷺ کیلئے تاریخی کامیابی کا دن ہے۔

(جاری ہے)

ان کے بقول یہ وہ تاریخ ساز دن ہے جب علما کرام، عوام اور تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، اس کا تحفظ ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ ختم نبوت کانفرنسوں اور سیمینارز کا مقصد عوام بالخصوص نوجوان نسل میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور عظمت اجاگر کرنا اور شعور بیدار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر کی کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے علما کرام، دینی جماعتوں، کارکنان اور عوام کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں رابطہ مہم، اجتماعات اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کانفرنس میں شریک ہو سکیں۔سیمینار کے شرکا نے 7 ستمبر کی ختم نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علما، دینی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد میں شرکت امت مسلمہ کے اتحاد اور دینی تشخص کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرے گی۔