میر رضا کیس میں کوتاہیاں ہوئی ہیں، میڈیکو لیگل کی بھی غلطی ہے، ، ان کوتاہیوں کا تدارک کیا جائے گا،آئی جی سندھ

میر رضا کے والدین نے تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، معاملے میں دباؤ نہیں بلکہ غلط فہمی کی بنیاد پر بعض مسائل پیدا ہوئے،جاوید عالم اوڈھو

جمعرات 13 اگست 2026 05:15

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2026ء) آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ میر رضا کیس افسوسناک ہے، معاملے میں کوتاہیاں ہوئی ہیں اور ان کوتاہیوں میں میڈیکو لیگل کی بھی غلطی شامل ہے، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں، اگر کوئی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔آئی جی سندھ نے یہ بات بدھ کو سندھ بار کونسل میں وائس چیئرمین اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

سندھ بار کونسل آمد پر وائس چیئرمین سمیت دیگر عہدیداران نے آئی جی سندھ کا استقبال کیا۔جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ میر رضا کیس میں پہلے جو میڈیکو لیگل رپورٹ سامنے آئی تھی، اس کی روشنی میں کارروائی کی جا رہی تھی، تاہم اب میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں۔

(جاری ہے)

کوتاہیاں سب کی ہیں، میڈیکو لیگل کی بھی کوتاہی ہے، ان کوتاہیوں کا تدارک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والدین نے تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، معاملے میں دباؤ نہیں بلکہ غلط فہمی کی بنیاد پر بعض مسائل پیدا ہوئے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران کوئی شخص ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس اور وکلا ایک ہی کمیونٹی اور ایک ہی کرمنل جسٹس سسٹم کا حصہ ہیں، پولیس کی جانب سے بھی کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں۔

وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سپریم لائسنسنگ اتھارٹی ہیں، اس لیے آپ پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم یہاں مسائل پیدا کرنے نہیں بلکہ انہیں حل کرنے اور راستہ تلاش کرنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کیس کو بنانا اور مجرمانہ کارروائی کے لیے تیار کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، جبکہ کسی شخص کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینا عدالت کی ذمہ داری ہے۔

پولیس صرف مقدمہ تیار کرتی ہے، صحیح اور غلط کا فیصلہ عدالت کرتی ہے، اس لیے سسٹم کو کام کرنے دیا جائے اور خود فیصلہ نہ کیا جائے۔جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ہزاروں پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائیاں کی گئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 27 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی نفری ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد ہے اور پولیس فورس دراصل معاشرے ہی کی عکاس ہوتی ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ضلعی سطح پر شکایتی نظام موجود ہے، چاہتے ہیں کہ پہلے ادارہ جاتی سطح پر معاملہ حل ہو اور اس کے بعد اعلیٰ سطح تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی لیگل برانچ میں افسران کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن سی آر او کا نظام موجود ہے، وکلا کے لیے بھی یہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پولیس فورس کے تعلیمی معیار کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 80 فیصد پولیس فورس انٹرمیڈیٹ پاس ہے، تاہم پیشہ ورانہ تربیت اور رویے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ معاشرہ پیشہ ور افراد سے اخلاق اور رویہ سیکھتا ہے، اس لیے ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم اس معیار پر پورا اتر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے باعث پولیس کے رویے میں بھی بہتری آئی ہے، کیونکہ اب ہر شخص کے پاس موبائل فون ہے اور کسی بھی واقعے کی فوری ویڈیو بن سکتی ہے۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے آئی جی سندھ نے کہا کہ شہر میں صورتحال بہتر ہوئی ہے اور جرائم میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔اس موقع پر وائس چیئرمین سندھ بار کونسل نے کہا کہ سندھ بار کونسل کے تحت 43 ڈسٹرکٹ بارز اور پانچ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز کی نمائندگی موجود ہے۔ ہمارے کچھ مسائل ہیں تاہم ہم بھی ایک ہی کرمنل جسٹس سسٹم کا حصہ ہیں اور پولیس کے ساتھ مل کر مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لائرز پروٹیکشن ایکٹ پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا، شناخت کے باوجود وکلا کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وکلا کے تحفظ کے لیے قانون پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پولیس و قانونی برادری کے درمیان رابطے اور تعاون کو مزید بہتر بنایا جائے۔