یمن: جنگ میں ممکنہ تیزی عام شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی، یو این

یو این جمعہ 14 اگست 2026 20:30

یمن: جنگ میں ممکنہ تیزی عام شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی، یو این

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 اگست 2026ء) اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے جبکہ ملک کا انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جہاں بھوک بڑھ رہی ہے، صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور لوگ مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنے آخری وسائل بھی استعمال کر چکے ہیں۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو یمن کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں عسکری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں حوثیوں کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں پر حملے بھی دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔

اس صورتحال سے یمن کے وسیع تر علاقائی تنازع میں الجھنے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

Tweet URL

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یمن میں سیاسی عمل میں آگے نہ بڑھا تو 2022 میں ہونے والی جنگ بندی سے پیدا ہونے والا موجودہ سکون ہمیشہ برقرار نہیں رہ سکتا۔

یمنیوں کے لیے دوبارہ جنگ چھڑنے کا مطلب یہ ہو گا کہ تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی گزارنے جیسی عام انسانی خواہشات ایک مرتبہ پھر غارت جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ایک نئی نسل کو ملک کا مستقبل نئے سرے سے متشکل کرنے کا موقع دینے کے بجائے محاذ جنگ پر بھیج دیا جائے گا۔

قیام امن کے لیے تین شرائط

گرنڈ برگ نے زور دیا کہ صورتحال کی سنگینی کے باوجود مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل اب بھی ممکن ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے فریقین سے تین بنیادی اقدامات کا مطالبہ کیا:

  • کشیدگی کا فوری خاتمہ کرتے ہوئے مضبوط اور پائیدار جنگ بندی کی جانب پیش رفت کی جائے۔
  • یمنیوں کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔
  • اقوام متحدہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ امن کی جانب پیش رفت کو مستحکم کیا جا سکے اور ایک جامع اور یمنی شہریوں کی قیادت میں سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

گرنڈبرگ نے واضح کیا کہ ثالثی سیاسی عزم کا متبادل نہیں ہو سکتی اور یمنی فریقین کو خود مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

امدادی عملے کی رہائی کا مطالبہ

خصوصی نمائندے نے خبردار کیا کہ وسیع پیمانے پر دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی حوثیوں (انصار اللہ) کی حراست میں 1,600 سے زیادہ لوگوں کی رہائی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے 73 اہلکار جبکہ غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور سفارت خانوں سے وابستہ متعدد افراد بھی طویل عرصہ سے ناجائز قید کاٹ رہے ہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ تمام ممکنہ ذرائع اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی یقینی بنانے میں مدد دے۔

خواتین اور لڑکیوں کے بدترین حالات

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کو شروع ہوئے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اور لاکھوں یمنی روزانہ انتہائی مشکل فیصلوں کا سامنا کر رہے ہیں:

خواتین اور لڑکیاں اس بحران کی ہولناک قیمت چکا رہی ہیں۔

تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جن میں تولیدی عمر کی 55 لاکھ اور 7 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔

فلیچر نے خبردار کیا کہ یمن کا طبی نظام تباہی کے دہانے پر ہے جبکہ غذائی عدم تحفظ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ایل نینو کے اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی جس کے باعث بارشوں میں تقریباً 40 فیصد کمی متوقع ہے۔

اس طرح فصلوں کو نقصان پہنچنے، پانی کی دستیابی متاثر ہونے اور دیہی آبادی کے ذرائعٔ معاش کو شدید نقصان کا خدشہ ہے۔

سلامتی کونسل سے مطالبات

ٹام فلیچر نے بتایا کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ نے ہر ماہ تقریباً 53 لاکھ افراد تک امداد پہنچائی۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ غیر یقینی صورتحال اور وسائل کی کمی نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

انہوں نے اس صورتحال کے تناظر میں کونسل کے سامنے تین مطالبات پیش کیے:

  • عطیہ دہندہ ممالک کی جانب سے کثیرالمقاصد اور یقینی مالی معاونت فراہم کی جائے۔
  • تنازع کے تمام فریق شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور امدادی سرگرمیوں کو انسانی اصولوں کے مطابق جاری رکھنے کی اجازت دیں۔
  • سلامتی کونسل یمن پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔ کونسل کے ارکان کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے مزید انسانی کو روکنے اور حقیقی پیش رفت کے لیے ضروری سیاسی گنجائش پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔