طالبان حکومت کو معمول کے طور پر قبول کرنے کے خلاف انتباہ

یو این جمعہ 14 اگست 2026 20:30

طالبان حکومت کو معمول کے طور پر قبول کرنے کے خلاف انتباہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 اگست 2026ء) انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران شہریوں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پابندیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی برادری اس مسئلے پر کماحقہ سنجیدہ توجہ نہیں دے رہی۔

ماہرین نے کہا ہے کہ طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت میں لڑکیوں کی ایک نسل ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہے۔

جو لڑکی تعلیم پر پابندی عائد کیے جانے کے وقت چھٹی جماعت میں تھی وہ اب بالغ ہونے کو ہے اور اسے اس عرصہ میں ایک روز بھی سکول جانے کا موقع نہیں ملا۔

Tweet URL

گزشتہ ایک سال کے دوران طالبان نے ادارہ جاتی نوعیت کے صنفی جبر کو مزید مضبوط کیا ہے جبکہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے جان بوجھ کر اور صنف کی بنیاد پر محروم کرنا انسانیت کے خلاف جرم مترادف ہے۔

(جاری ہے)

چونکہ یہ جبر صنفی امتیاز، جبر اور غلبے کے ایک باقاعدہ اور ادارہ جاتی نظام کا حصہ بن چکا ہے اس لیے اسے صنفی عصبیت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ صنفی عصبیت کو انسانیت کے خلاف ایک الگ اور باقاعدہ جرم کے طور پر بین الاقوامی قانون میں شامل کرانے کی کوشش کریں۔

خواتین اور لڑکیوں پر بڑھتی پابندیاں

ماہرین کے مطابق، طالبان اپنے عوام پر جابرانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان میں وہ فرمان بھی شامل ہے جو خواتین کے خلاف ایسے تشدد کی اجازت دیتا ہے جس سے 'ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا جسم پر واضح نشانات ثبت نہ ہوں۔'

اسی طرح، میاں بیوی کی علیحدگی سے متعلق ایک فرمان بھی جاری کیا گیا ہے جو بالواسطہ طور پر کم عمری کی شادی کی اجازت دیتا ہے اور خواتین و لڑکیوں کے لیے پرتشدد یا جبری شادیوں سے نکلنے کی راہ انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔

یہ احکامات مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں۔

ایسی پابندیوں پر عملدرآمد کے لیے ظالمانہ اور غیر انسانی سزاؤں سمیت کیے جانے والے اقدامات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ گزشتہ سال شہریوں کو سرعام کوڑے مارے جانے کے واقعات پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

آئی سی سی کی حمایت کا مطالبہ

ماہرین نے مزید کہا ہے کہ خواتین کو ان کے لباس کی وجہ سے یا اس لیے ہسپتالوں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی مرد سرپرست موجود نہیں تھا۔

جون 2026ء میں ہرات میں کم از کم 30 خواتین اور لڑکیوں کو لباس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کیا گیا۔ جب مقامی لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر دی جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔

ماہرین نے بین الاقوامی فوجداری عدالت(آئی سی سی) کے لیے مزید مضبوط حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے لیے حال ہی میں منظور کیا گیا آزاد تحقیقاتی طریقہ کار محض کاغذی کامیابی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مناسب وسائل فراہم کیے جائیں اور اس کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔

غذائی قلت کا سنگین بحران

اقوام متحدہ کے ماہرین نے افغانستان میں گہرے ہوتے انسانی بحران پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی امداد کے لیے مالی وسائل میں کمی، کمزور ہوتی معیشت، خشک سالی اور ہمسایہ ممالک سے بڑے پیمانے پر افغان باشندوں کی واپسی اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

گزشتہ سال موسم سرما کے دوران ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی یا ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا۔

ان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار تھے۔

ماہرین نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی امداد کے لیے مالی تعاون بحال کریں اور یقینی بنائیں کہ خواتین خود امداد فراہم کرنے اور حاصل کرنے کے قابل ہوں۔

پاک افغان کشیدگی اور انسانی نقصان

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ افغانستان محفوظ ملک نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی اور ملک بدری کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار جاری کشیدگی کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ اس تنازع میں اکتوبر 2025 سے اب تک تقریباً 500 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں مارچ 2026 میں کابل کے منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 269 مریض بھی شامل ہیں۔

ماہرین نے پاکستان اور طالبان دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور ممکنہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔

آخر میں ماہرین نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی موجودہ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاملے میں انسانی حقوق سے متعلق ملک کی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے۔ پانچ برس سے افغان عوام کے حقوق منظم انداز میں پامال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے افغان اپنے حقوق کی بحالی کے لیے بہادری سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو انہیں ایک مرتبہ پھر مایوس نہیں کرنا چاہیے۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔