خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس،صوبے میں بدامنی کی صورتحال، باجوڑ میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، دریائے کنڈ میں ڈوبنے والے افراد پر ارکان کا اظہار تشویش

پیر 17 اگست 2026 20:17

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اگست2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں صوبے میں بدامنی کی صورتحال، باجوڑ میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، دریائے کنڈ میں ڈوبنے والے افراد اور چارسدہ کے تنگی ہسپتال میں کلاس فور ملازم کی موت کے واقعات پر ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔باجوڑ سے منتخب حکومتی رکن اجمل خان نے نکتۂ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدامنی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے، شہری شام کے بعد گھروں سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں جبکہ دن کے اوقات میں بھی نقل و حرکت محفوظ نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں صورتحال خاص طور پر گھمبیر ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو جب پوری قوم یوم آزادی منا رہی تھی، ان کے حلقۂ نیابت اتمان خیل اور آبائی گاؤں برنگ چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار ظاہر شاہ شہید جبکہ امیر زادہ زخمی ہوگئے۔

(جاری ہے)

اجمل خان نے سوال اٹھایا کہ عوام کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے، کیا شہری اپنی حفاظت کے لیے خود ہتھیار اٹھائیں؟ انہوں نے کہا کہ اسی اسمبلی میں امن کے قیام کے لیے جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور جرگے کے نکات قیام امن کی ضمانت تھے تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ ان سفارشات پر اب تک کتنا عملدرآمد ہوا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ برنگ کے علاقے کو سکیورٹی فراہم کی جائے، متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور شہید پولیس اہلکار کے خاندان کے لیے بڑا مالی پیکیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ قبل شہید ہونے والے قبائلی مشر کے لواحقین کو تاحال مالی پیکیج نہیں مل سکا۔اجمل خان نے کہا کہ عوام امن چاہتے ہیں اور حکومت کو قیام امن کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے کہا کہ امن کمیٹی کے چیئرمین اسپیکر ہیں اور ایوان کے تمام ارکان موجودہ صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے اسپیکر سے سفارش کی کہ امن کمیٹی کا اجلاس جلد طلب کیا جائے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے کر عملی اقدامات کیے جاسکیں۔ایم پی اے عبدالسلام نے نکتۂ اعتراض پر بتایا کہ 14 اگست کو جشن آزادی کے موقع پر ان کے حلقۂ نیابت کے کچھ افراد سیر و تفریح کے لیے کنڈ پارک گئے تھے، جہاں ایک باپ اور اس کے دو بیٹے دریامیں ڈوب گئے۔

انہوں نے کہا کہ کئی روز گزرنے کے باوجود تینوں کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں۔بعدازاں اسپیکر کی ہدایت پر وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نے جاں بحق افراد اور شہداء کے ایصال ثواب کے لیے ایوان میں دعا کرائی۔اقلیتی رکن سریش کمار نے چارسدہ کے تحصیل تنگی ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک کلاس فور ملازم ہسپتال میں فرائض انجام دے رہا تھا۔

ایم ایس کی جانب سے اضافی ڈیوٹی لگائے جانے پر مبینہ طور پر ملازم نے درخت پر چڑھ کر چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ کلاس فور ملازمین کو اضافی ڈیوٹی سے انکار کی صورت میں برخاستگی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے واقعے کی شفاف انکوائری اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔اسپیکر نے وزیر قانون کو ہدایت کی کہ متعلقہ محکمے سے واقعے کے بارے میں مکمل رپورٹ طلب کرکے ایوان کو آگاہ کیا جائے۔