cبجلی لوڈشیڈنگ میں عوام کو ریلیف دینے کا اہم فیصلہ

ذ*فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کا نظام نافذ کرنے کی ہدایت ں*بجلی چوری سے پاک اور واجبات ادا کرنے والے ٹرانسفارمرز لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہوں گے چارسدہ، متنی اور چمکنی سمیت مختلف علاقوں میں ٹرانسفارمر سطحی لوڈشیڈنگ کا آزمائشی آغاز ًآج سے بجلی چوروں اور بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائی، اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل

پیر 17 اگست 2026 19:50

oپشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 اگست2026ء) کمشنر پشاور ڈویڑن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت بجلی لوڈشیڈنگ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے، بجلی چوری اور کنڈہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی، واجبات کی وصولی اور بجلی میٹرز کی تنصیب کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پشاور ڈویڑن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، سپرنٹنڈنگ انجینئر پیسکو اور تمام ایکسینز پیسکو نے شرکت کی۔

اجلاس میں عوامی مشکلات کے ازالے اور بجلی کے نظام میں بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ بجلی چوری یا واجبات کی عدم ادائیگی والے علاقوں کی وجہ سے پورے فیڈر کے ذمہ دار اور باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین متاثر نہ ہوں۔

(جاری ہے)

فیصلے کے مطابق جس ٹرانسفارمر سے منسلک علاقے میں بجلی چوری نہ ہونے اور واجبات کی باقاعدگی سے ادائیگی کی صورتحال ہوگی، اسے لوڈشیڈنگ سے حتی الامکان مستثنیٰ رکھا جائے گا، جبکہ بجلی چوری اور واجبات کی صورتحال کے مطابق دیگر ٹرانسفارمرز پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔ اس طرح بجلی چوری نہ کرنے اور باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جاسکے گا۔

کمشنر پشاور ڈویڑن نے بتایا کہ اس نظام کو ابتدائی طور پر چارسدہ کے مختلف علاقوں، متنی اور چمکنی سمیت دیگر منتخب علاقوں میں آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا۔ ان علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس طریقہ کار کو مزید علاقوں تک وسعت دینے پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں بجلی چوری، کنڈہ مافیا اور بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائی کے لیے پشاور ڈویڑن کے تمام اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

ان ٹیموں میں پیسکو افسران و اہلکاروں، پولیس، ممبران صوبائی اسمبلی، سابق بلدیاتی نمائندوں، متعلقہ تحصیلدار، گرداور اور پٹواریوں کو شامل کیا جائے گا۔ خصوصی ٹیمیں منگل کے روز سے بجلی چوروں اور بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کریں گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ریاض خان محسود نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بجلی چوری کے خاتمے، کنڈہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، بجلی کے واجبات کی وصولی اور بجلی میٹرز کی تنصیب کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

انہوں نے پیسکو اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان باہمی رابطے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔کمشنر پشاور ڈویڑن نے کہا کہ عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں ہر ممکن ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو غیر ضروری عوامی مشکلات یا احتجاج کا باعث بنیں۔ انہوں نے پیسکو حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے جبکہ بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری کے خاتمے اور واجبات کی وصولی کے لیے کارروائی کسی فرد یا علاقے کے خلاف نہیں بلکہ بجلی کے نظام میں بہتری اور قانون کی یکساں عملداری کے لیے کی جائے گی، تاکہ ایماندار صارفین کو غیر ضروری لوڈشیڈنگ سے بچایا جاسکے۔کمشنر ریاض خان محسود نے تمام متعلقہ حکام سے اقدامات پر ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی، جس میں بجلی چوری کے خلاف کارروائی، واجبات کی وصولی، میٹرز کی تنصیب، بڑے نادہندگان کے خلاف اقدامات اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ریلیف کی تفصیلات شامل ہوں گی