بینک اپنے کاروباری ماڈلز تبدیل کریں، نجی شعبے کی فنانسنگ بڑھائیں، گورنر اسٹیٹ بینک

ریٹیل ڈپازٹس کے حصول کے لیے بینکوں میں مسابقت ضروری، صارفین کو پرکشش منافع اور معیاری خدمات فراہم کی جائیں، جمیل احمد جون 2026ء تک بینکوں کے مجموعی اثاثے 69 ٹریلین، ڈپازٹس 43 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، گورنر اسٹیٹ بینک

جمعہ 21 اگست 2026 22:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو ازسرِنو ترتیب دے کر ریٹیل ڈپازٹس زیادہ حاصل کریں اور نجی شعبے کی فنانسنگ میں اضافہ کریں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کے اگلے مرحلے میں بینکاری شعبے کی معاونت انتہائی اہم ہے۔

جمعہ کو کراچی میں منعقدہ 11ویں پاکستان بینکاری ایوارڈز 2026ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2026ء کے دوران شدید سیلاب، جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارتی ماحول میں غیر یقینی کیفیت سمیت ملکی اور بیرونی نوعیت کے متعدد دھچکوں کے باوجود ثابت قدمی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ اوسط مہنگائی وسط مدتی ہدف کے قریب رہی، مہنگائی کی توقعات بڑی حد تک قابو میں رہیں، جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ متوقع حد کی نچلی سطح کے قریب رہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور یہ جون کے اختتام پر 18 ارب ڈالر کے ہدف سے خاصے زائد رہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ذخائر کے معیار میں بھی بہتری آئی، کیونکہ یہ اضافہ قرض لینے کے بجائے اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی خریداری سے ہوا۔گورنر نے زور دیا کہ اگرچہ پالیسی سازوں نے معیشت کو مستحکم کرنے کا مشکل مرحلہ کامیابی سے طے کیا ہے، تاہم محض معاشی استحکام پاکستان کو بلند اور پائیدار اقتصادی نمو کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں بینکاری شعبے کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔بینکاری صنعت کی مضبوطی پر روشنی ڈالتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ جون 2026ء کے اختتام تک بینکوں کے مجموعی اثاثے 69 ٹریلین روپے جبکہ ڈپازٹس 43 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ بینکوں کی نفع آوری بھی مضبوط رہی، جبکہ ان کی شرحِ کفایتِ سرمایہ (سی اے آر) بین الاقوامی معیارات اور ملکی ضوابطی تقاضوں دونوں سے خاصی زائد رہی۔

اسی دوران انہوں نے مالی وساطت کو مضبوط بنانے کے نمایاں مواقع کی جانب بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ خاصی نمو کے باوجود دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے مقابلے میں پاکستان میں بینکاری شعبے کے اثاثے اور ڈپازٹس، جی ڈی پی کے لحاظ سے اب بھی کم ہیں، جبکہ پاکستان میں کرنسی اور ڈپازٹس کا تناسب بلند ہے۔گورنر نے کہا کہ نقد رقم پر انحصار مزید کم کرنے اور ڈپازٹس کی اساس کو مضبوط بنانے کی خاصی گنجائش ہے۔

انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ریٹیل ڈپازٹس کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کریں اور صارفین کو پرکشش منافع دینے کے ساتھ ساتھ معیاری خدمات بھی فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ ریٹیل ڈپازٹس جمع کرنے کی سوچ کو رواج دینے سے مالی شمولیت بڑھے گی، نیز یہ بینکوں کے لیے رقوم کے حصول کا زیادہ متنوع طریقہ ہے اور انہیں مستحکم بنیاد بھی فراہم کرے گا۔

گورنر جمیل احمد نے نجی شعبے کے قرضے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قرض کی فراہمی ہم پلہ ابھرتی ہوئی دیگر مارکیٹوں کی نسبت کافی کم ہے اور جی ڈی پی کے لحاظ سے نجی شعبے کے قرضے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران واضح طور پر کم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی بجٹ ضروریات ہی اس رجحان کی واحد وجہ نہیں ہیں، کیونکہ کئی ابھرتی ہوئی معیشتیں ایسی ہیں جہاں حکومت کا ملکی قرضہ خاصا بلند ہے، لیکن وہاں جی ڈی پی کے تناسب سے نجی شعبے کے قرضوں کا حجم بھی بڑا ہے۔

لہٰذا انہوں نے بینکوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو اس طرح تبدیل کریں کہ زیادہ ڈپازٹس اکٹھے کریں اور نجی شعبے کو زیادہ قرضے فراہم کرسکیں۔پاکستان بینکاری ایوارڈز کی گیارہویں تقریب کا انعقاد نباف پاکستان نے ڈان میڈیا گروپ اور اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی کے اشتراک سے کیا۔ گورنر جمیل احمد نے منتظمین کو تقریب کے انعقاد پر سراہا، جو ملک میں بینکاری کے مستقبل کی تشکیل میں معاون اداروں کے کردار کے اعتراف، ستائش اور ان کے ساتھ دیرپا شراکت داری کا ثبوت ہے۔

ایوارڈز کی تفصیلات کے مطابق میزان بینک لمیٹڈ نے بہترین بینک کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اعلیٰ ترین اعزاز کے علاوہ کئی اہم شعبوں میں بھی ایوارڈز دیے گئے، جن میں خواتین کی شمولیت کے لیے بہترین بینک کا ایوارڈ بینک آف پنجاب کو، بہترین مائکروفنانس بینک کا ایوارڈ آسا مائکروفنانس بینک لمیٹڈ کو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے بہترین بینک کا ایوارڈ بینک آف پنجاب کو، زرعی شعبے کی شمولیت کے لیے بہترین بینک کا ایوارڈ بھی بینک آف پنجاب کو، ڈیجیٹل شعبے میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ بینک الفلاح لمیٹڈ کو، صارفین کے ساتھ بہترین روابط کے لیے بہترین بینک کا ایوارڈ میزان بینک لمیٹڈ کو، بہترین درمیانے درجے کے بینک کا ایوارڈ عسکری بینک لمیٹڈ اور فیصل بینک لمیٹڈ کو، ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی شعبوں (ای ایس جی) میں بہترین بینک کا ایوارڈ حبیب بینک لمیٹڈ کو، جبکہ غیر بینک ادارے کی جانب سے بہترین خدمات کا ایوارڈ پاکستان مائکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو دیا گیا۔