پاکستان ریلوے کی آمدن 88 ارب سے بڑھ کر 115 ارب روپے ہوگئی، اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، وفاقی وزیرریلوے

ہفتہ 22 اگست 2026 13:10

پاکستان ریلوے کی آمدن 88 ارب سے بڑھ کر 115 ارب روپے ہوگئی، اصلاحات کے مثبت ..
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 اگست2026ء) وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں اصلاحات کے نتیجے میں مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، گزشتہ مالی سال ریلوے کی آمدن 88 ارب روپے سے بڑھ کر 115 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ فریٹ آمدن میں بھی 28 فیصد اضافہ ہوا ہے، ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ڈیڑھ سال قبل پاکستان ریلوے کی ذمہ داری سنبھالی تو متعدد خامیاں موجود تھیں، جنہیں کم سے کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، اصلاحات کے نتائج حقائق اور اعداد و شمار سے واضح ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی آمدن میں 27 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نے بھی تصدیق کی ہے،حنیف عباسی نے کہا کہ فریٹ آمدن میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے، فریٹ آمدن بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے، کوشش ہے کہ فریٹ آمدن میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ریلوے کی زمین اور جائیداد کو اوپن آکشن کے ذریعے لیز پر دینے کی پالیسی اپنائی گئی، جس کے نتیجے میں ریلوے کی زمین اور جائیداد سے آمدن 8 ارب روپے سے بڑھ کر 16 ارب روپے ہوگئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے پرانے لوکوموٹیوز کو 10 سال تک اوورہال نہیں کیا گیا، اب لوکوموٹیوز اور ایئر کنڈیشننگ نظام کو مرحلہ وار اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ کئی کوچز اپنی مقررہ عمر پوری کرچکی تھیں۔عوام ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، بزنس ٹرین اور سکھر ایکسپریس کی کوچز اپ گریڈ کی گئی ہیں جبکہ تیزگام، پاکستان ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی۔

حنیف عباسی نے کہا کہ 15 ستمبر کے بعد اپ گریڈ کی گئی کسی ٹرین کے ریک میں پرانی کوچ شامل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اپ گریڈ شدہ ٹرینوں میں پرانی کوچز کی آمیزش قابل قبول نہیں ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ 30 ستمبر تک پاکستان ریلوے کے بیڑے میں 30 پاور وینز شامل ہوجائیں گی، 31 دسمبر تک مزید 16 نئی پاور وینز خریدی جائیں گی جبکہ باقی 40 پاور وینز 23 مارچ تک ریلوے کے بیڑے میں شامل ہوجائیں گی، جس کے بعد پاور وینز کی کمی نہیں رہے گی۔

پاور وینز کی اوورہالنگ اصل کمپنی سے کرائی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لوکوموٹیوز کی بھی مرحلہ وار اوورہالنگ کی جائے گی، 4 ہزار ہارس پاور کے جی یو 40 لوکوموٹیوز کو فریٹ سروس کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ دیگر لوکوموٹیوز کو بھی مرحلہ وار اوورہال کرکے بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔حنیف عباسی نے کہا کہ نئے سلیپر کیسز میں پہیے، بریکس اور دیگر ضروری پرزہ جات بھی شامل ہوں گے، 31 دسمبر تک تمام ڈمی ویگنز ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ 15 ستمبر تک روزانہ فریٹ ٹرینوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 اور 31 دسمبر تک 15 کرنے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی آمدن میں مزید 50 سے 60 ارب روپے اضافے کی کوشش کی جا رہی ہے، ریلوے کے لیے پرانا ٹریک سسٹم ایک بڑا چیلنج ہے اور موجودہ ٹریک کا بڑا حصہ کئی دہائیاں پرانا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ تھرکول کو ریلوے نیٹ ورک سے ملانے کے لیے 105 کلومیٹر ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے، منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کو سالانہ 2 ارب ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ تھرکول سے کوئلے کی ترسیل کے لیے ریلوے نظام میں جدت لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ روہڑی کراچی ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 2.5 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوچکا ہے، روہڑی کراچی ٹریک پر ٹرینوں کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہے، ٹریک کی اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے اور منصوبے کا سنگ بنیاد جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں رکھنے کی توقع ہے۔حنیف عباسی نے کہا کہ روہڑی کراچی ٹریک منصوبے پر موجودہ دورانیے کے اختتام تک 50 سے 60 فیصد کام مکمل ہونے کی امید ہے جبکہ اپ گریڈیشن کے بعد سفر کے دورانیے میں تقریباً 5 گھنٹے کمی آئے گی۔

روہڑی ملتان ریلوے سیکشن کی بہتری اور ایم ایل تھری منصوبے پر بھی کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ 70 سال میں پہلی بار ریلوے کے 177 خطرناک مقامات ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے ان مقامات کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ ایک ارب روپے کی پہلی قسط جاری کردی گئی ہے، ریلوے حکام کو کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا کے تاریخی ریلوے مقامات محکمہ آثار قدیمہ نے سنبھال لیے ہیں، لاہور میں شاہدرہ سے رائیونڈ تک 41 ریلوے پارکس بنانے کا منصوبہ ہے جن میں سے 4 مکمل کرلیے گئے ہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کو تجارتی راہداری بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، پاکستان ریلوے کے اہم روٹس کو مخصوص تجارتی راہداری میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے میں ڈیجیٹلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اوور اسپیڈ، فیول کنزمپشن اور ٹریک کے مسائل کے حل کے لیے جدید نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ریلوے ملازمین کی سہولیات میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آج خانیوال میں گارڈز اور ڈرائیورز کے رننگ رومز کا افتتاح کیا جائے گا، جبکہ ریلوے ملازمین کے کوارٹرز کی چھتوں اور سیوریج کے مسائل بھی حل کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کا دورہ کیا۔ انہوں نے پلیٹ فارمز پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا، پولیس ہیلپ لائن ڈیسک اور مرد و خواتین مسافروں کے لیے قائم سہولت مراکز کا معائنہ کیا اور شہریوں سے ملاقات کرکے ریلوے سہولیات کے بارے میں ان کی آراء معلوم کیں۔وفاقی وزیر نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پر قائم کنٹرول روم کا افتتاح بھی کیا اور ریلوے آپریشنز کی نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا۔