سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس،اسلام آباداور راولپنڈی کے صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا جائزہ، شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

پیر 24 اگست 2026 20:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی نے اسلام آباداور راولپنڈی کے صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اہل صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی سینیارٹی کے مطابق سختی سے زیر غور لایا جائے اور اس عمل میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے۔

کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سید وقار مہدی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ صحافیوں کے زیر التواء معاملات کے حل کے لیے ضروری سمری وزیراعظم آفس کو بھجوائی جائے، انہوں نے اے پی پی کے ملازمین سے متعلق معاملے پر غور کے لیے اگلے اجلاس میں اے پی پی کے نمائندوں کو بھی مدعو کرنے کی ہدایت کی۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سینیٹرز جان محمد اور عبدالشکور خان نے شرکت کی۔پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے)، نیشنل پریس کلب، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور میڈیا ورکرز کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور ذیلی کمیٹی کے سامنے اپنے تحفظات پیش کیے۔ذیلی کمیٹی نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے اختیار کیے گئے قواعد، اہلیت کے معیار اور طریقہ کار کا جائزہ لیا۔

اجلاس کے آغاز پر کنوینر نے ذیلی کمیٹی کی تشکیل اور اس کے پہلے اجلاس کے انعقاد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری ہونے میں تاخیر کے باعث متعلقہ محکموں کے لیے معاملے پر پیش رفت کرنا متاثر ہوا۔

ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے ذیلی کمیٹی کو ایف جی ای ایچ اے کی سکیموں کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ پالیسی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ فیز ون میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے 2 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا جبکہ فیز ٹو میں صحافیوں کے لیے ایک فیصد کوٹہ مختص ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیز ون کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے لیے کم از کم 20 سالہ پیشہ ورانہ تجربہ اور اسلام آباد یا راولپنڈی میں خدمات انجام دینا ضروری ہے۔

متعلقہ اخبار کا گزشتہ تین سال سے سینٹرل میڈیا لسٹ پر موجود ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ درخواست گزار کی شریک حیات کو اس سے قبل اسلام آباد یا راولپنڈی میں پلاٹ الاٹ نہیں ہوا ہونا چاہیے۔ ڈی جی ایف جی ای ایچ اے کے مطابق اہل درخواست گزاروں کی فہرست ایف جی ای ایچ اے نے فراہم کی ہے اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ سینیارٹی کی بنیاد پر کی جائے گی۔

فیز ٹو کے تحت مختلف کیٹیگریز کے مجموعی طور پر 85 پلاٹ دستیاب ہیں۔کنوینر سینیٹر سید وقار مہدی نے ہدایت کی کہ تمام اہل صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی سینیارٹی کے مطابق سختی سے زیر غور لایا جائے اور عمل میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے وزارت کو معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی کمیٹی ایک ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لے گی۔

میڈیا نمائندوں نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں صحافیوں نے بنی گالہ/بہارہ کہو سکیم کے تحت پلاٹوں کے لیے درخواستیں دی تھیں جہاں مبینہ طور پر پہلے آئیے، پہلے پائیے کا اصول اختیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ فیز ٹو میں بھی یہی صورتحال پیش آسکتی ہے۔نمائندوں نے 35 درخواست گزاروں کے معاملات بھی اجاگر کیے جنہوں نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا اور مبینہ طور پر 2004 سے اپنے معاملات کے حل کے منتظر ہیں۔

انہوں نے ذیلی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ سابقہ سکیموں کے تحت ایسے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی فہرستیں حاصل کی جائیں جنہیں دو پلاٹ الاٹ کئے گئے تاکہ شفافیت یقینی بنانے اور دوہری الاٹمنٹ کی روک تھام میں مدد مل سکے۔اجلاس میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے ملازمین کی اہلیت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے بتایا کہ اے پی پی کے ملازمین نیشنل پریس کلب کے رکن ہیں جبکہ پی ٹی وی کے ملازمین اس کے رکن نہیں ہیں۔کنوینر نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ صحافیوں کے زیر التواء معاملات کے حل کے لیے ضروری سمری وزیراعظم آفس کو بھجوائی جائے۔ انہوں نے اے پی پی کے ملازمین سے متعلق معاملے پر غور کے لیے اگلے اجلاس میں اے پی پی کے نمائندوں کو بھی مدعو کرنے کی ہدایت کی۔

ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے ذیلی کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ 35 درخواست گزاروں کے معاملات متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام زیر التوا معاملات پر ایک ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ صحافیوں کے پلاٹ سلیکشن کمیٹی کی تازہ رپورٹ 15 دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔