سیوتا میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، تارکین وطن کے کیمپ کو آگ لگا دی گئی

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 28 اگست 2026 13:00

سیوتا میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، تارکین وطن کے کیمپ کو آگ لگا ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 اگست 2026ء) ایک ماہ قبل مراکش سے تارکین وطن کی بڑی تعداد کے سیوتا پہنچنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی تھی اور حالیہ بدامنی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی خودمختار علاقے سیوتا میں جمعرات کے روز مظاہرین نے تارکین وطن کے ایک کیمپ کو آگ لگا دی جبکہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

یہ تازہ کشیدگی ایک ماہ قبل مراکش سے بڑی تعداد میں تارکین وطن کی سیوتا آمد کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

ہسپانوی ٹی وی پر نشر ہونے والی رپورٹوں میں مظاہرین کے ایک گروہ کو ساحل پر آگ کے قریب اشیا پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا جبکہ تارکین وطن ایک گھاٹ کی طرف فرار ہو گئے۔

(جاری ہے)

سیوتا پولیس کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسی روز تقریباً 70 افراد نے ایک فوجی گاڑی پر پتھراؤ کیا۔

مقامی لوگوں نے ریڈ کراس کی گاڑیوں کو ساحل تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی، جہاں تارکین وطن میں خوراک تقسیم کی جا رہی تھی۔ ہسپانوی پرچم اٹھائے یہ مظاہرین ''انہیں یہاں سے جانا چاہیے‘‘ اور ''ریڈ کراس واپس جاؤ‘‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

سیوتا میں کتنے تارکین وطن اب بھی موجود ہیں؟

جولائی میں 70 ہزار سے زائد تارکین وطن بغیر سفری دستاویزات سیوتا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، جن میں سے اکثریت بعد ازاں مراکش واپس چلی گئی۔

تاہم اب بھی کئی ہزار افراد سیوتا میں موجود ہیں اور سڑکوں یا ساحل کے قریب عارضی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہسپانوی حکومت کے مطابق سیوتا میں تارکین وطن کی تعداد سات ہزار سے کم ہے جبکہ سیوتا میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کم از کم 10 ہزار ہے۔ اس ہسپانوی علاقے کی مجموعی آبادی تقریباً 84 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

میڈرڈ پر بڑھتا ہوا دباؤ

سیوتا کی صورتحال پر ہسپانوی حکومت کو بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔

قدامت پسند حزب اختلاف وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے اور سیوتا کے رہائشیوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ہسپانوی حکومت نے حالیہ دنوں میں مہاجرین اور تارکین وطن کی شناخت کا عمل تیز کرنے اور ان کے کیسز کا جائزہ لینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ساتھ ہی بغیر سرپرست کے آنے والے کم عمر بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

یہ بحران ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب اسپین میں اگلے سال عام انتخابات متوقع ہیں۔ سیوتا میں ہونے والی اس پیش رفت نے اسپین میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں مائیگریشن کے معاملے پر زیادہ سخت پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

جولائی میں سیوتا پہنچنے والے افراد کی بڑی تعداد نے یورپی یونین کے اندر بھی اس بحران سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بحث اور اختلافات کو جنم دیا تھا۔